حیدرآباد (دکن فائلز) الہٰ آباد ہائی کورٹ نے سہارنپور پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ عائشہ مسجد میں پانچ وقت کی اذان کی ادائیگی میں مداخلت نہ کریں، بشرطیکہ درخواست گزار اس بات کا حلف نامہ جمع کرائیں کہ وہ ‘شور کی آلودگی (ضابطہ اور کنٹرول) کے قواعد، 2000’ اور اذان کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال سے متعلق عدالت کے 2020 کے فیصلے کی مکمل پابندی کریں گے۔
جسٹس اجیت کمار اور جسٹس گریما پرشاد پر مشتمل ڈویژن بینچ نے یہ حکم یکم اکتوبر کو ضلع سہارنپور کے رہائشی شاہنواز خان اور پانچ دیگر شہریوں کی جانب سے دائر آئینی درخواست (رٹ پٹیشن) پر سماعت کے دوران جاری کیا۔
درخواست گزاروں نے مسجد میں پانچ وقت کی اذان دینے اور اس مقصد کے لیے لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے کی اجازت طلب کی تھی۔ ان کا مؤقف تھا کہ لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی اجازت سے متعلق عدالتی فیصلوں کے باوجود انتظامیہ انہیں اذان کے لیے یہ آلات استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔
ریاستی حکومت نے عدالت کو آگاہ کیا کہ درخواست گزاروں کو اذان دینے سے نہیں روکا گیا، بلکہ یہ پابندی محض لاؤڈ اسپیکر کے طریقہ استعمال پر عائد ہے جس کے لیے شور کی آلودگی کے قواعد مجریہ 2000 پر عمل درآمد لازمی ہے۔ ریاست نے مؤقف اختیار کیا کہ قواعد میں لاؤڈ اسپیکر کے لیے آواز کی حد (ڈیسیبل لیول) اور استعمال کے مخصوص اوقات مقرر ہیں۔ اس ضمن میں ہائی کورٹ کے 2020 کے فیصلے “افضل انصاری اور دو دیگر بنام ریاستِ اتر پردیش و دیگر” کا حوالہ بھی دیا گیا۔
2020 کے اس فیصلے میں ہائی کورٹ نے واضح کیا تھا کہ اگرچہ اذان اسلام کا ایک بنیادی اور لازمی حصہ ہے، لیکن لاؤڈ اسپیکر یا آواز بڑھانے والے دیگر آلات کے ذریعے اس کی ادائیگی کو مذہب کا ناگزیر جزو قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ صوتی آلات کا استعمال امنِ عامہ، اخلاقیات، صحت اور بنیادی حقوق کے آئینی دائرہ کار کے تابع ہے۔
فیصلے میں صراحت کی گئی تھی کہ ضلعی انتظامیہ رات 10 بجے سے صبح 6 بجے کے درمیان ایسے آلات کے استعمال کی اجازت نہیں دے سکتی، اور بغیر اجازت کے ان کا استعمال غیر قانونی ہے۔ اس فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ مؤذن کسی صوتی آلے کے بغیر خالص انسانی آواز میں مسجد کے مینار سے اذان دے سکتا ہے۔
موجودہ کیس میں درخواست گزاروں نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ وہ شور کی آلودگی کے قواعد یا عدالت کے سابقہ احکامات کی ہرگز خلاف ورزی نہیں کریں گے اور اذان کے دوران لاؤڈ اسپیکر کے استعمال سے متعلق تمام ضوابط کی سختی سے پابندی کریں گے۔
اس پس منظر میں عدالت نے درخواست گزاروں کو ہدایت کی کہ وہ باقاعدہ دستخط شدہ اور نوٹری تصدیق شدہ حلف نامے کے ساتھ درخواست دائر کریں، جس میں شور کی آلودگی کے قواعد اور افضل انصاری کیس کی ہدایات کی پابندی کا عہد شامل ہو۔
عدالت نے واضح کیا کہ حلف نامہ جمع ہونے کی صورت میں پولیس اور ضلعی انتظامیہ عائشہ مسجد میں پانچ وقت کی اذان کے حق میں دخل اندازی نہیں کرے گی۔ ساتھ ہی عدالت نے انتظامیہ کو یہ اختیار بھی دیا کہ اگر حلف نامے کی خلاف ورزی کی گئی تو وہ قانون کے مطابق کارروائی کرنے کے لیے آزاد ہوں گے۔


