ایسا لگتا ہے کہ اب حجاب کا مسئلہ کرناٹک سے حیدرآباد منتقل ہوگیا ہے، کچھ روز قبل پرانے شہر کے سنتوش نگر میں ایک کالج کی جانب سے مسلم طالبات کو برقعہ پہن کر امتحان لکھنے سے مبینہ طور پر روکا گیا تھا، جس کے بعد حکومت کی جانب سے فوری کاروائی کرتے ہوئے معاملہ کو سلجھالیا گیا۔
حیات نگر کے ایک اسکول کی جانب سے مسلم طالبات کو کلاس روم میں اسکارف پہننے کی اجازت دینے سے انکار کے بعد اسکول انتظامیہ کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیا گیا۔
حیدرآباد کے حیات نگر میں واقع ایک نجی اسکول میں مسلم طالبات کو مبینہ طور پر حجاب لگانے کی اجازت نہ دینے کے بعد حکومت نے سخت موقف اختیار کیا اور اسکول انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔
پولیس نے پرنسپل پورنیما شریواستو اور ٹیچر مادھوری کویتا کے خلاف دفعہ 153A، 295، 292 اور آئی پی سی کی دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔
اطلاعات کے مطابق قبل ازیں حیات نگر میں واقع ایک نجی اسکول میں زیرتعلیم 10ویں جماعت کی دو طالبات کو کلاس روم میں حجاب نہ پہننے کی ہدایت دی تھی۔ زی اسکول میں دیگر اسکولز کی طرح 12 جون سے کلاسس کا آغاز ہوا تھا تاہم گذشتہ 22 تاریخ کو ہمیشہ کی طرح دو مسلم طالبات نے اسکارف پہن کر اسکول آئیں، جس کے بعد پرنسپل اور ٹیچر نے ان کے حجاب پر مبینہ طور پر اعتراض کیا اور انہیں حجاب کے بغیر کلاس روم میں داخل ہونے کی ہدایت دی۔
اس سلسلہ میں ایک طالبہ کی شکایت کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرلیا اور حیات نگر ایس ایچ او سرینواسولو کی نگرانی میں تحقیقات کی جارہی ہے۔


