اتم نگر میں عید منانے کی اجازت نہیں دی جائے گی! مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور دھمکیوں پر اے پی سی آر کا دہلی پولیس سے فوری کارروائی کا مطالبہ

حیدرآباد (دکن فائلز) اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سیول رائٹس (اے پی سی آر) نے مغربی دہلی کے اتم نگر میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت انگیز تقاریر اور دھمکیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دہلی پولیس سے فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت مداخلت نہ کی گئی تو صورتحال فرقہ وارانہ تشدد میں تبدیل ہو سکتی ہے، خاص طور پر عیدالفطر سے قبل۔

اے پی سی آر کی جانب سے 15 مارچ کو پولیس کمشنر کو دی گئی تحریری درخواست میں کہا گیا ہے کہ اتم نگر کے جے جے کالونی اور اطراف کے علاقوں میں اشتعال انگیز تقاریر، نفرت انگیز پوسٹرز اور منظم سرگرمیاں سامنے آ رہی ہیں، جن میں مبینہ طور پر مسلمانوں کے خلاف تشدد پر اکسانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔

تنظیم کے مطابق اس کشیدگی کی جڑ 4 مارچ کو جے جے کالونی میں دو خاندانوں کے درمیان ہونے والا ایک معمولی تنازع ہے، جس پر پولیس پہلے ہی مقدمہ درج کر کے کچھ ملزمان کو گرفتار کر چکی ہے۔ تاہم اے پی سی آر کا کہنا ہے کہ اس ذاتی جھگڑے کو دانستہ طور پر فرقہ وارانہ رنگ دے کر مسلمانوں کے خلاف نفرت بھڑکائی جا رہی ہے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا اور مقامی اجتماعات میں گردش کرنے والی کئی ویڈیوز میں کھلے عام دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ مسلمانوں کو اتم نگر میں عید منانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بعض پیغامات میں عید کے دن زبردستی ہولی کھیلنے اور نماز سے قبل تشدد کرنے کی بات بھی کہی گئی ہے۔

اے پی سی آر نے ان پوسٹروں کی بھی نشاندہی کی ہے جن میں اعلان کیا گیا ہے کہ 20 مارچ کو اتم نگر میں ہولی منائی جائے گی جبکہ امید کی جارہی ہے کہ اسی روز عیدالفطر ہونے کا امکان ہے جس سے مقامی مسلمانوں میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔

جے جے کالونی کا عیدگاہ ہر سال ہزاروں افراد کی نمازِ عید کا مرکز ہوتا ہے، تاہم موجودہ حالات کے باعث مقامی باشندے اپنی سلامتی اور پرامن عبادت کے حوالے سے شدید فکرمند ہیں۔ ادھر حالیہ دنوں میں ہستسال گاؤں میں ہولی کے دوران دو خاندانوں کے تصادم میں ایک 26 سالہ نوجوان کی ہلاکت کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ اس واقعہ کے بعد سوشل میڈیا پر کئی ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں ہندوتوا شدت پسندوں کو اشتعال انگیز نعرے لگاتے اور کھلی دھمکیاں دیتے دیکھا جا سکتا ہے۔

پولیس نے علاقہ میں بیریکیڈز لگا کر سیکیورٹی سخت کر دی ہے اور ہر گلی میں اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، تاہم پیر کی شام تک ان ویڈیوز میں ملوث افراد کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی تھی۔ ایک سینئر پولیس افسر کے مطابق ویڈیوز کی تصدیق کی جا رہی ہے اور بعض افراد دہلی کے باہر کے بھی ہو سکتے ہیں۔

مقامی افراد کے مطابق گزشتہ چند دنوں سے شدت پسند روزانہ علاقہ میں آ کر اشتعال انگیز نعرے لگا رہے ہیں۔ اتوار کو سوامی ایپا پارک کے قریب ایک احتجاج بھی ہوا، جس میں بعض افراد نے کھلے عام تشدد کی دھمکیاں دیں۔

اے پی سی آر کے قومی سیکریٹری ندیم خان کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ نفرت انگیزی پھیلانے والوں کی فوری شناخت کر کے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے، عیدگاہ اور مساجد کے اطراف سیکیورٹی بڑھائی جائے اور علاقے میں مسلسل پولیس گشت کو یقینی بنایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں