اتر پردیش کے ضلع غازی آباد میں واقع فیوچر ٹریک کوچنگ سنٹر کے ڈائرکٹر مولوی شوکت علی کو سنٹر میں باجماعت نماز ادا کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔ اس معاملہ میں درج ایف آئی آر میں پولیس نے بتایا کہ جب پولیس کوچنگ سنٹر پہنچی تو مولوی شوکت علی انسٹی ٹیوٹ میں نماز پڑھ رہے تھے۔
پولیس نے مولوی شوکت علی کے خلاف سیکشن 153 اے اور 505 کے تحت مقدمہ درج کیا۔ پولیس نے بتایا کہ کوچنگ سنٹر میں نماز ادا کرنے پر مقامی ہندو کمیونٹی کے افراد نے شکایت درج کی تھی۔
ایس ایچ او نے بتایا کہ مولوی شوکت علی کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے اندر باجماعت نماز پڑھا رہے تھے۔ مکتوب کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک مقامی شخص نے بتایا کہ شوکت علی ایک عزت دار انسان ہیں اور ماضی میں وہ مسجد کے امام تھے۔ انہوں نے کہا شوکت علی کوچنگ انسٹی ٹیوٹ نہیں چلاتے، وہ مدرسہ چلاتے ہیں جہاں جدید تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ باجماعت نماز ادا کرنے پر گرفتاری نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے شوکت علی کی گرفتاری پر اعتراض کیا۔
سب انسپکٹر پریم سنگھ کی طرف سے درج ایف آئی آر میں بتایا گیا کہ 23 جون کو دوپہر کے وقت نہرو گارڈن چوکی کے علاقے میں پولیس گشت کے دوران دیکھا گیا کہ دیپک وہار کے فیوچر ٹریک کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے اندر باجماعت نماز ادا کی جارہی ہے، جس پر مقامی ہندو برادری نے اعتراض کیا۔
India is heaven for Muslims!!!
On June 23, Maulvi Shaukat Ali, director of a coaching facility in Ghaziabad, was arrested by police following a complaint that he had organized a congregational Namaz inside his coaching institute!!!@meerfaisal01 reports: https://t.co/KHsBGpphbU pic.twitter.com/E9adLWf7NY
— Muslim Spaces (@MuslimSpaces) June 25, 2023
پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار سے اس سلسلہ میں مکتوب کے نمائندہ نے بات کی اور مدرسہ چلانے یا نماز پڑھنے کی قانونی حیثیت سے متعلق سوال کیا تو اسٹیشن ہاؤس آفیسر نے کہا کہ ’نماز پڑھنے کا عمل علاقے میں رہنے والے دوسرے افراد پر اثر انداز ہو رہا تھا‘۔
https://twitter.com/meerfaisal01/status/1672546165009813504?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1672546165009813504%7Ctwgr%5Eb9155748fd2c7d968226a9bfd3010ececf4b1aab%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Fscroll.in%2Flatest%2F1051523%2Fghaziabad-muslim-man-arrested-for-using-coaching-centre-to-offer-community-prayers
مولوی شوکت علی ولد عبدالرحمان نے بتایا کہ کوچنگ سنٹر میں ہندی، انگریزی، ریاضی کے ساتھ ساتھ عربی اور اردو بھی پڑھائی جاتی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ انسٹی ٹیوٹ میں صرف مسلمان بچے ہی تعلیم حاصل کررہے ہیں اور ان کی سہولت کےلئے سنٹر میں ہی باجماعت نماز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔


