بی جے پی کے سینئر رہنما اور کرناٹک کے سابق نائب وزیر اعلی کے ایس ایشورپا نے ایک بار پھر متنازعہ بیان دیکر مسلمانوں کے خلاف نفرت بھڑکانے کی کوشش کی۔ انہوں نے اپنے اشتعال انگیز بیان میں کہا کہ ’مندروں کی تعمیر کے لیے مساجد کو مسمار کر دیا جانا چاہیے‘۔
کرناٹک کے ہاویری ضلع میں پارٹی اجلاس کے دوران خطاب کرتےہوئے بی جے پی کے متنازعہ رہنما نے کہا کہ مغلوں کے ذریعہ مبینہ طور پر گرائی گئی مندروں کو اسی مقام پر دوبارہ تعمیر کیا جائے گا جہاں مساجد بنی ہوئی ہیں۔
انہوں نے اس موقع پر ایودھیا، کاشی، متھرا کا ذکر کرتےہوئے مسلمانوں کے خلاف متنازعہ ریمارکس کئے۔ ایشورپا نے مزید کہا، ’ہم نئی مساجد کو منہدم نہیں کرنا چاہتے، صرف مندروں کی مقام پر مبینہ طور پر تعمیر کی گئی مساجد کو ہی منہدم کیا جائے گا، ایسا چاہے آج ہو، کل ہو یا مستقبل میں یا پھر 50 سال بعدہو‘۔
واضح رہے کہ کچھ روز بھی بی جے پی کے بھڑکاؤ رہنما نے اذان سے متعلق بھی متنازعہ بیان دیا تھا جس کے بعد مسلمانوں کی جانب سے ان کے متنازعہ بیان کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا تھا۔


