راجستھان میں شدت پسندی و فرقہ وارانہ منافرت کا ایک اور واقعہ پیش آیا جس میں کچھ ہندوتوا شدت پسندوں نے ایک مسلم شخص کو جے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا اور بے رحمی سے اسے مارپیٹ کا نشانہ بنایا۔
https://twitter.com/meerfaisal01/status/1678846613538869248
اطلاعات کے مطابق بھیلواڑہ علاقہ میں 8 جولائی کو ایک 21 سالہ مسلم نوجوان کو ہندوتو شدت پسندوں نے اس لیے تشدد کا نشانہ بنایا کیونکہ اس نے جئے شری رام کا نعرہ لگانے سے انکار کر دیا تھا۔
مکتوب میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق مسلم نوجوان کی شناخت صاحب علی خان کے طور پر کی گئی۔ صاحب علی خان نے بتایا کہ مکیش گجر نے اسے راستہ میں روکا اور زبر دستی جے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا۔ بار بار مجبور کرنے پر ایک دن میں نے ہندو نعرہ لگایا، لیکن دوسرے دن دوبارہ مکیش نے کچھ ہندوتوا شدت پسندوں کے ایک گروپ کے ساھت آیا اور اسے نعرہ لگانے پر مجبور کیا۔اب میں نے انکار کردیا اور کہا کہ ہر کسی کو اپنے عقیدہ پر چلنے کی آزادی ہے۔
اس کی وجہ سے مکیش کا غنڈوں پر مبنی گروپ مشتعل ہوگیا اور مسلم نوجوان پر تلواروں، لوہے کی راڈوں سے حملہ کردیا اور بے رحمی سے مارپیٹ کا نشانہ بنایا۔ اس دوران ہندوتوا گروپ نے خوب گالی گلوج بھی کی۔
صاحب علی نے مزید بتایا کہ اگر میں فرار ہونے میں کامیاب نہ ہوتا تو وہ لوگ مجھے جان سے مار دیتے۔ پولیس نے اس معاملے میں مکیش گرجر اور شیوا گرجر سمیت سات لوگوں کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 143، 323، 341، 307، 295A کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔


