نوح میں تشدد کے بعد گروگرام میں فسادیوں نے مسجد کو آگ لگادی، شدت پسندوں کے حملے میں نوجوان امام حافظ سعد جاں پحق

(تصویر: ٹویٹر پر اپ لوڈ کی گئی تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ فساد زدہ علاقہ میں ایک شدت پسند فسادی بے خوف ہاتھ میں بندوق لے سڑک سے گذر رہا ہے جبکہ قریب میں موجود پولیس اہلکار ہاتھ باندھے کھڑا ہے۔۔۔)

دارالحکومت دہلی سے قریب گروگرام سیکٹر 57 کی ایک مسجد پر حملہ کرکے تقریباً 200 فسادیوں نے آگ لگادی اور مسجد کے امام حافظ سعد اور دیگر دو افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ شدت پسندوں کے حملہ میں 19 برس کے نوجوان امام حافظ سعد جاں بحق ہوگئے۔ ان پر تلواروں اور لاٹھیوں سے حملہ کیا گیا۔ اس واقعہ میں دیگر دو افراد بھی زخمی ہوگئے۔ فسادیوں نے مسجد میں بڑے پیمانہ پر توڑپھوڑ کی اور بعدازاں آگ لگادی۔

حافظ سعد کا تعلق سیتامڑھی سے بتایا گیا جبکہ ان پر تین بہنوں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے گھریلو حالات کی بنائ پر کم عمری میں تعلیم ترک کردی اور کچھ عرصہ قبل انجمن مسجد میں امامت کررہے تھے اور علاقہ کے بچوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کررہے تھے۔

اطلاعا کے مطابق واقعہ کے وقت مسجد کے باہر پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود فسادیوں نے مسجد پر حملہ کرکے امام صاحب کو ہلاک کردیا۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز ہریانہ میں میوات علاقے کے نوح شہر میں وشوا ہندو پریشد کی جانب سے یاترا نکالی گئی جس میں دو مسلم نوجوانوں کی موب لنچنگ کا ملزم مونو مانیسر نے شرکت کی اور مسلمانوں کے خلاف مبینہ طور پر اشتعال انگیز نعرے بازی کی گئی۔ جس کے بعد تشدد پھوٹ پڑا۔ علاقہ میں بڑے پیمانہ پر آتشزنی اور دہشت پھیلائی گئی۔ فساد میں اب تک پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔ تشدد کے واقعات میں متعدد پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگئے۔

ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے لوگوں سے پرامن رہنے کی خواہش کی اور کہا کہ واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے واقعہ کو افسوسناک قرار دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں