سپریم کورٹ نے جمعہ کو آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے ذریعہ گیانواپی مسجد کے سروے پر روک لگانے سے انکار کردیا۔ سپریم کورٹ نے گیانواپی مسجد کمپلیکس کے اے ایس آئی سروے پر روک لگانے سے انکار کردیا۔
عدالت عظمیٰ نے کہا کہ سروے میں مسجد کے ڈھانچہ کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچایا جانا چاہئے۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس منوج مشرا اور جے بی پاردی والا پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ نے کہا کہ ڈھانچے کے کسی بھی حصے کی کھدائی یا توڑ پھوڑ نہیں ہونی چاہئے۔
عدالت عظمیٰ کی بنچ نے گیانواپی مسجد کمیٹی کی عرضی جس میں سروے رپورٹ کو خفیہ رکھنے کی استدعا کی گئی تھی کو بھی مسترد کر دیا۔ سپریم کورٹ نے اے ایس آئی کی عرضیوں کا بھی نوٹس لیا کہ سروے کے دوران نہ تو کوئی کھدائی کی جائے گی اور نہ ہی کسی جگہ کو تباہ کیا جائے گا۔ اس نے اے ایس آئی اور اتر پردیش حکومت کی طرف سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کے گذارشات کو نوٹ کیا کہ سروے کے دوران کوئی کھدائی نہیں کی جائے گی اور نہ ہی ڈھانچے کو کوئی نقصان پہنچایا جائے گا۔
سینئر ایڈوکیٹ حذیفہ احمدی، جو مسجد کمیٹی کی طرف سے پیش ہوئے، نے بنچ کے سامنے استدلال کیا کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی یہ مشق ’تاریخ کو کھودنے‘ کی مشق ہے اور اس سے عبادت گاہوں سے متعلق قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے جس سے بھائی چارے اور سیکولرازم متاثر ہوسکتا ہے۔


