کانگریس لیڈر راہول گاندھی کو ان کے ‘مودی کنیت’ کے تبصرہ پر مجرمانہ ہتک عزت کے مقدمے میں سپریم کورٹ کی جانب سے سزا پر روک لگانے کے بعد آج کی ان کی پارلیمنٹ کی رکنیت کو بحال کر دیا گیا۔
راہل گاندھی لوک سبھا میں اپنے حلقہ انتخاب وائناڈ کی نمائندگی کریں گے، ایسے وقت جب پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی جانب سے منی پور تشدد پر بحث کا مطالبہ کیا جارہا ہے ایسے میں راہل کی واپسی سے انڈیا (اپوزیشن) کے حوصلے بلند ہیں۔
لوک سبھا سکریٹریٹ نے ایک اعلامیہ میں بتایاکہ راہل گاندھی کی معطلی کو برخواست کردیا گیا ہے۔ مودی سرنیم پر راہول گاندھی کی جانب سے کئے گئے تبصرے کے مقدمہ میں سورت کی سیشن کورٹ کی جانب سے اُنہیں دوسال کی سزا سنائی گئی تھی جس پر سپریم کورٹ نے روک لگادی ہے۔ سورت کی عدالت کی جانب سے دیئے گئےفیصلہ پر گجرات ہائیکورٹ کی جانب سے کوئی راحت نہ ملنے پر راہول گاندھی سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے تھے اس پر 4 اگست کو سماعت کرنے کے بعد سپریم کورٹ نے راہول گاندھی کی جیل کی سزا پر روک لگادی ۔ لوک سھبا کی رکنیت بحال ہونے پر راہول گاندھی کے آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے کل پیش کی جانے والی تحریک عدم اعتماد پر بحث میں راہول گاندھی کے حصہ لینے کا امکان ہے۔


