پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے حکم کے بعد نوح میں بلڈوزر کاروائی کو روک دیا گیا، جبکہ غریبوں کے خلاف بلڈوزر کی ظالمانہ کاروائی گذشتہ چار روز سے جاری تھی آج ہائیکورٹ نے اس پر روک لگادی۔
نوح ڈپٹی کمشنر دھیریندر کھڈگتا نے متعلقہ حکام کو ہائیکورٹ کے حکم سے واقف کروایا اور فوری طور پر بلڈوزر کاروائی کو روکنے کی ہدایت دی۔ گذشتہ چار روز سے جاری بلڈوزر کاروائی میں 350 سے زیادہ جھونپڑیوں اور 50 پکے ڈھانچوں کو منہدم کیا گیا۔
ہریانہ حکومت کی جانب سے نوح کے فساد زدہ علاقہ میں بلڈوزر کاروائی کا حکم دیا گیا تھا جسے مقامی افراد کے علاوہ سیاسی پارٹیوں نے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ کاروائی اقلیتوں کو نشانہ بنانے کےلئے کی جارہی ہے۔ مقامی لوگوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی۔ تاہم مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔
واضح رہے کہ اسدالدین اویسی نے نوح میں بلڈوزر کاروائی کو مسلمانوں کےلئے اجتماعی سزا قرار دیا تھا۔


