جئے پور ایکسپریس فائرنگ، نوح بلڈوزر کاروائی، حجاب، یو سی سی، منی پور، بلقیس بانو و دیگر معاملات پر مودی حکومت کا ضمیر کہا گیا؟ آپ کےلئے ملک بڑا ہے یا ہندوتوا؟ عدم اعتماد تحریک کی تائید میں اسدالدین اویسی کی للکار

لوک سبھا میں مودی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں حصہ لیتے ہوئے کل ہند مجلس اتحاد املسلمن کے صدر بیرسٹر اسد الدین اویسی نے انتہائی مدلل تقریر کے ذریعہ مودی حکومت کو آئینہ دکھایا۔ انہوں نے ملک میں مسلمانوں کی سلامتی، گھروں پر بلڈوزر کاروائی، یکساں سیول کوڈ، بلقیس بانو اجتماعی عصمت ریزی کے مجرمین کی رہائی، حجاب کا مسئلہ، اقلیتیوں کے بجٹ میں کمی کے علاوہ انہوں نے ملک کے موجودہ حالات اور منی پور پر بھی مودی حکومت کو گھیرا۔

حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے کہا کہ جئے پور ایکسپریس میں ایک وردی پوش دہشت گرد نے مسلمانوں کی شناخت کرکے انہیں قتل کردیا اور کہا کہ ملک میں رہنا چاہتے ہیں تو مودی کو ووٹ دینا ہوگا۔ انہوں نے اس حملہ کو دہشت گرد کاروائی قرار دیا۔ انہوں نے نوح میں مسلمانوں کے 750 عمارتوں کو منہدم کرنے کے معاملہ میں کہا کہ مودی حکومت کا ضمیر کہا گیا۔ انہوں نے کہاکہ یہ آپ کا ضمیر ہے کہ حجاب کو مسئلہ بناکر مسلم طالبات کو تعلیم سے محروم کیا جارہا ہے۔

انہوں نے اپنی تقریر میں دلچسپ تبصرہ کیا اور کہا کہ کل وزیر داخلہ امت شاہ نے ’کوئٹ انڈیا‘ کا نعرہ دیا تھا جبکہ انہیں یہ نہیں معلوم کے اسے سب سے پہلے ایک مسلمان نے لگایا تھا، اگر انہیں معلوم ہوتا کہ اس نعرہ کو سب سے پہلے یوسف مہر علی نے لگایا تھا تو وہ یہ نعرہ کبھی نہ لگاتے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کے بجٹ میں 40 فیصد کی کمی کی گئی اور اسکالر شپس کو بند کر دیا گیا۔ اس سے ایک لاکھ 80 ہزار اقلیتی طلبا متاثر ہوئے۔ انہوں نے وزیراعظم مودی سے مخاطب ہوکر کہا کہ آپ پسماندہ مسلمانوں سے ہمدردی کا دم بھرتے ہیں جبکہ آپ کی کابینہ میں ایک بھی مسلم وزیر نہیں ہے اور اخلاق، پہلو خان سمیت کئی مسلمانوں کا ماب لنچنگ میں قتل کیا جاتا ہے جو تمام کے تمام پسماندہ مسلمان تھے۔

اسدالدین اویسی نے بلقیس بانو کے قصورواروں کی رہائی پر کہاکہ یہ آپ کا ضمیر ہےکہ جن مجرموں نے بلقیس بانو کی عصمت ریزی کی جبکہ وہ حاملہ تھیں، ان کی چھوٹی بیٹی اور دیگر افراد خاندان کو ماردیا انہیں آپ کی حکومت نے رہا کردیا۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ بلقیس بانو اس ملک کی بیٹی ہے یا نہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہریانہ اور منی پور کے وزرائے اعلیٰ کے لیے کسی شاعر نے کہا تھا کہ ’یہ کرسی نہیں، تمہارا جنازہ ہے، تم کچھ نہیں کر سکتے تو نیچے کیوں نہیں اترتے‘۔

رکن پارلیمنٹ اویسی نے مودی حکومت سے سوال کیا کہ ’آپ کےلئے ملک بڑا ہے یا ہندوتوا یا گولوالکر کی سوچ بڑی ہے؟ انہوں نے آخر میں کانگریس پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ایک دکاندار ہے اور ایک چوکیدار ہے۔ انہوں نے یو اے پی اے بل کی تائید کرنے پر کانگریس کو نشانہ بنایا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں