الحاج گلزار احمد اعظمی سکریٹری قانونی امداد کمیٹی جمعیہ علماء مہاراشٹر کا آج صبح انتقال ہوگیا۔ وہ 90 برس کے تھے۔ مولانا حلیم اللہ قاسمی جنرل سکریٹری جمعیہ علماء مہاراشٹر کے اطلاع کے بموجب الحاج گلزار احمد اعظمی سکریٹری قانونی امداد کمیٹی جمعیہ علماء مہاراشٹر کا آج صبح ساڑے دس بجے حرکت قلب بند ہوجانے سے انتقال ہوگیا۔ مختصر سی علالت کے بعدوہ ممبئی کے بائیکلہ مسینا ہاسپٹل میں زیر علاج تھے۔جہاں انھوں نے آج صبح آخری سانس لی۔
الحاج گلزار احمد اعظمی ، چھ دہائیوں سے جمعیۃ علماء ہند سے وابستہ تھے اور اس کے بعد سے ہندوستان کی سب سے بڑی مسلم غیر سرکاری تنظیم جمعیت کے تحت سماجی کاموں کے لیے بے شمار خدمات پیش کر چکے ہیں۔ اعظمی جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے بہت سے غریب لوگوں کے کیس لڑ چکے ہیں۔ ان کے تعاون کے سبب ایسے لوگوں کی رہائی ممکن ہوئی جو برسوں سے جیل می بند تھے۔ دہشت گردی کے جھوٹے معاملوں میں پھنسائے گئے نوجوانوں کی رہائی کے لئے انہوں نے طویل لڑائیاں لڑیں۔ اس کے لئے انہیں دھمکیاں بھی ملی تھیں۔ وہ مہاراشٹر اقلیتی کمیشن کے رکن بھی رہ چکے تھے۔ الزامات یا دھمکیوں سے نہ گھبرانے کے لیے، عظمی کہتیے تھے کہ میں استحصال کے شکار افراد کو انصاف دلانے کے اپنے جذبے کو روکنے نہیں جا رہا ہوں، یہ لوگ، اگر اکیلے رہ گئے تو، پولیس کی جانب سے جانبدارانہ تفتیش کا نشانہ بنیں گے۔ میں اپنی جان سے نہیں ڈرتا۔ مجھے یقین ہے کہ میری موت کا وقت، جگہ اور واقعات پہلے ہی طے شدہ ہیں اور میں کسی وقت اس سے ملوں گا۔ میں معاشرے کے مظلوم طبقے کی مدد کرنے سے کیوں پرہیز کروں۔ دہشت گردی کے ملزموں کے دفاع میں آنے والے خطرے کے بارے میں ان کا سادہ لیکن طاقتور جواب تھا۔
یکم مئی 1934 کو ممبئی میں پیدا ہونے والے اعظمی نے اردو میونسپل اسکول میں پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کی اور پھر دارالعلوم اسلامیہ میں تین سال تک دینی تعلیم حاصل کی۔ لیکن صرف اتنی زیادہ روایتی تعلیم اس کی بنیادی قابلیت سے کوئی مماثلت نہیں رکھتی تھی۔ 1970 میں بھیونڈی اور جلگاؤں فسادات کے دوران انہوں نے سماجی کام شروع کیا۔ تب تقریباً 300 مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اعظمی نے ان کے اہل خانہ کو غمزدہ پایا، اول تو فسادات کی وجہ سے ہونے والے مادی نقصان کے لیے اور دوسرا، اپنے پیاروں کی گرفتاریوں کی وجہ سے۔ یہ پہلا موقع تھا جب جمعیت نے ایسے غمزدہ افراد کو جیل سے ان کے پیاروں کی رہائی میں مدد کی پیشکش کی۔ پھر، 1993 کے دھماکوں کے بعد، جمعیت کے نمائندے کے طور پر، اعظمی نے سری کرشنا کمیشن کی مدد کی جو ممبئی میں سلسلہ وار دھماکوں کی تحقیقات کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔ کمیشن نے اپنی کھوج میں، رپورٹ بنانے کے حوالے سے اہم شواہد فراہم کرنے میں جمعیۃ علماء کی تعریف کی۔ اعظمی نے کمیشن کی کاپی کا اردو میں ترجمہ کیا اور اسے ملک کے اردو قارئین کے لیے دستیاب کرایا۔
مفتی محمودزبیرقاسمی جمعیت علما تلنگانہ و آندھرا نے انتقال پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گلزار اعظمی صاحب رحمہ اللہ جمعیت کا بھت بڑا سرمایہ، جوانی کے زمانہ سے جمعیت کے سرگرم کارکن، جماعت سے والہانہ عشق رکھنے والے، جمعیتی مزاج ومذاق ان کاخمیر، اور قائد ملت حضرت مدنی مدظلہ کی نظر نے تو انہیں دو آتشہ کردیا تھا۔ ملکی سطح پر وہ مظلوموں کی آواز بنے، قانونی گلیاروں سے بڑی آشنائی، بڑے بڑے فیصلوں پر روک لگانے اور انہیں پلٹانے کے غیر معمولی حکمت عملی، جمعیت کی لیگل سیل کے ذمہ دار اور ہزاروں بے سہاروں کے لیے امید کی کرن، خوبی یہ کہ اپنے ان ذمہ داریوں کی ادائیگی میں یکسو، نام ونمود سے کوسوں دور، فرضی دعوؤں اور خبروں سے گریزاں، حضرت مدنی کی نظر باصفا نے اُن میں اخلاص و ہمدردی کے ایسے جوہر پیدا کردیے تھے جو یقینا ان کے لیے توشہ آخرت اور سامانِ سرخروئ ہیں، اللہ کے یہاں اپنے دکھی بندوں کا سہارا بننے والوں اور مظلوموں کی دادرسی کرنے والوں کی بڑی قدر ہے، بارہا ملاقات کا موقع رہا، گفتگوٹھوس، بوڑھے حلق سے بھی جوانوں کو شرما دینے والی پر عزم گفتگو اور آواز، جمعیت حلال کمیٹی کے بھی یہ سربراہ تھے، حضرت مدنی مدظلہ کو ان پر اعتماد اور یہ اس اعتماد پر نہ صرف کھرے اترے بلکہ داد تحسین سے نوازے جاتے رہے، اپنی زندگی کی۹۰/ بہاریں دیکھیں اور آخری زمانہ تو قبولیتِ عام کا گزارا، قحط الرجال کے اس زمانے میں ایسوں کو کہاں تلاش کیا جاۓ، انسانیت کے غم کو اپنا غم سمجھنے والے، امورِ مسلمین میں اہتمام رکھنے والے، اللہ انہیں غریق رحمت فرماۓ، قبر کو جنت کا باغ بناۓ، اپنے مقرب اور برگزیدہ بندوں میں شامل فرماۓ، جنت الفردوس ان کا ٹھکانہ بناۓ۔ آ مین


