جئے پور ایکسپریس میں فائرنگ کرکے تین مسلمانوں کا قتل کرنے والے چیتن سنگھ چودھری نے پہلے بھی متعدد مرتبہ مسلمانوں کو نشانہ بنایا تھا اور ان پر حملہ کرتا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق 2016 میں فرقہ پرست چیتن کی ڈیوٹی اجین میں تھی، اس وقت چین نے ایک مسلم آٹو ڈرائیور کے ساتھ بدسلوکی اور اس پر حملہ کیا تھا۔ ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ چیتن نے آٹو ڈرائیور واجد خان کو متعدد بار دھمکیاں دی تھیں۔
واجد خان نے چیتن کی جانب سے کئے گئے مظالم سے متعلق بتایا کہ چیتن، اجین ریلوے اسٹیشن سے آٹو سواری کرتا تھا لیکن بہت کم پیسے دیتا۔ کچھ کہو تو ڈراتا۔ ایک مرتبہ تو چیتن نے واجد کو غدار اور دہشت گرد بھی کہا تھا۔ فرقہ پرست چیتن کا کہنا تھا کہ ’مسلمانوں کی جگہ جیل میں ہے‘۔
چیتن کا ظلم بڑھتا جارہا تھا جبکہ اس نے خان پر حملہ کردیا تھا جس کے بعد واجد نے آر پی ایف افسران سے اس کی شکایت کی تھی۔ واجد نے مزید بتایا کہ چیتن مجھ پر تشدد کرتا اور کہتا کہ مجھے کسی کیس میں پھنسادے تا۔
بالآخر واجد کی شکایت کے بعد انکوائری کی گئی تو چیتن کو قصوروار پایا گیا اور اس کا ٹرانسفر کردیا گیا۔ واضح رہے کہ چیتن اس طرح کے کم از کم تین معاملات میں ملوث رہ چکا ہے۔


