حیدرآباد (دکن فائلز) ملک میں فرقہ پرستی عروج پر ہے اور ہندتوا طاقتیں مسلمانوں کے خلاف زہرگھولتے ہوئے سماج میں تفرقہ پیدا کرنے کی سازش میں مصروف ہیں۔ مسلمانوں کو ٹرین میں نام پوچھ کر اور داڑھی دیکھ کر سپاہی کے ہاتھوں قتل کردیا جاتا ہے تو کہیں نام نہاد گورکھشکوں کی جانب سے سرعام مسلم نوجوانوں کو پیٹ پیٹ کر قتل کردیا جاتا ہے۔
بہار کے کیمور میں ایک اور انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ یہاں ایک معصوم طالب علم پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے۔ اس واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔ وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ نابالغ طالب علم جو اسکول یونیفارم میں ہے کو کچھ لڑکوں کی جانب سے مبینہ طور پر بری طرح مارپیٹ کرتے ہوئے تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جن لڑکوں نے معصوم طالب علم پر تشدد کیا وہ بھی نابالغ ہیں۔ اسی لئے دکن فائلز پر اس واقعہ کی ویڈیو اور تصویر کو شائع نہیں کیا جارہا تھا۔
اس انتہائی وحشتناک ویڈیو سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوتوا کا زہر کس قدر سماج میں گھولا جارہا ہے، اب تو معصوم بچوں کو بھی فرقہ پرستی کے جنون میں ڈھکیلا جارہا ہے۔ ویڈیو میں کچھ لڑکوں پر مشتمل ہجوم کو معصوم طالب علم پر مبینہ طور پر تشدد کرتے اور اسے ’جئے شری رام‘ کا نعرہ لگانے پر مجبور کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پویس نے اس سلسلہ میں مقدمہ درج کرلیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔ واضح رہے کہ اس ویڈیو پر گودی میڈیا پوری طرح خاموش ہے۔


