مسلم طالب علم کے ساتھ غیرانسانی سلوک کے بعد محکمہ تعلیم نے نیہا پبلک اسکول کو بند کرنے کی ہدایت دی

حیدرآباد (دکن فائلز) اترپردیش میں مظفر نگر ضلع کے منصور پور تھانہ کے تحت کھبا پور گاؤں میں واقع نیہا پبلک اسکول کو بالآخر بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو پر صارفین کی جانب سے سخت ترین ردعمل کیا گیا اور حکومت سے اسکول انتظامیہ، ٹیچر، پرنسپل کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔

اطلاعات کے مطابق محکمہ تعلیم نے کارروائی کرتے ہوئے نیہا پبلک اسکول انتظامیہ کو نوٹس دیکر جواب طلب کیا اور تحقیقات ہونے تک اسکول کو بند رکھنے کی ہدایت دی۔ وہیں ایک اور اطلاع کے مطابق محکمہ تعلیم نے اسکول کا رجسٹریشن منسوخ کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔

ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ اسکول کی منظوری ایک سال قبل ختم ہوچکی ہے، یعنی فی الحال اسکول غیرقانونی طور پر چلایا جارہا تھا۔ ایجوکیشن آفیسر شبھم شکلا نے کہا کہ سال 2019 میں اسکول نے نرسری تا پانچویں جماعت تک منظوری لی تھی، جس کے بعد تین سال کے لیے عارضی طور پر منظوری دی گئی تھی۔ اس کی مدت 2022 میں پوری ہو چکی ہے جبکہ اسکول انتظامیہ نے اس دوبارہ تجدید نہیں کی۔

واضح رہے کہ مظفر نگر کے ایک اسکول میں فرقہ پرست ذہنیت رکھنے والی خاتون ٹیچر نے مسلم طالب علم کو ساتھی طلبا سے پٹوایا تھا اور مسلم طبقہ سے متعلق متنازعہ تبصرہ کیا تھا۔ اس واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوگیا جس کے بعد ٹیچرس پر ملک و بیرون ملک میں موجود لاکھوں صارفین نے شدید برہمی کا اظہار کیا تھا۔

سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے دلچسپ تبصرے کئے ہیں۔ ایک صارف نے کہا کہ تریپتا تیاگی کی جگہ کوئی فاطمہ رہتی تو یوگی حکومت کی جانب سے ابھی تک نہ جانے کیا کیا کاروائی کی گئی ہوتی۔ اسی طرح ایک اور صارف نے کہا کہ اگر اسکول انتظامیہ مسلم ہوتا تو ابھی تک اسکول کو بلڈوز کردیا جاتا اور بچے وہاں کھیلتے ہوئے دکھائی دیتے۔۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں