جمعیت علمائے ہند کی جانب سے میوات فساد متاثرین میں چیکس کی تقسیم، مولانا ارشد مدنی کی ہدایت پر دو سو خاندانوں میں 40 لاکھ روپئے تقسیم کئے گئے

نوح و میوات فسادات میں متوسط اور غریب طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ وہ لوگ جو چھوٹے تاجر ہیں، سڑک پر دکاندار ہیں یا وہ لوگ جو گاڑیوں پر سامان بیچتے ہیں انیں فسادات کے دوران زیاد نقصان ہوا ہے۔ ان لوگوں کا سب کچھ تباہ ہو گیا، کیونکہ فسادات کے بعد ان کی آمدنی کا ذریعہ بھی بند ہو گیا ہے۔ جب یہ حقائق جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کے علم میں آئی تو انہوں نے جمعیۃ علماء ہند کے ایک وفد کو متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے لیے بھیجا اور ایسے تمام لوگوں کی باقاعدہ فہرست بنانے کی ہدایت دی۔

مولانا ارشد مدنی کی ہدایت کے بعد مذکورہ وفد نے جو فہرست بنائی ہے اس میں دو سو سے زائد افراد کے نام ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو فسادات کے بعد بے روزگار ہیں، ان کے پاس اتنا پیسہ بھی نہیں ہے کہ وہ اپنا کاروبار دوبارہ شروع کر سکیں۔ جس کے بعد مولانا مدنی نے فوراً اعلان کیا کہ جمعیۃ علماء ہند ان تمام لوگوں کی فوری مدد کرے گی تاکہ یہ غریب لوگ اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں چنانچہ مولانا مدنی کی ہدایت پر آج جنرل سکریٹری مفتی سید معصوم ثاقب قاسمی اور مولانا اظہر مدنی کی قیادت میں ایک وفد نے نوح کے متاثرہ علاقوں میں ریلیف کیمپ لگایا اور ان دو سو ضرورت مندوں میں بیس ہزار روپے فی کس کا چیک تقسیم کیا۔

اس موقع پر زیادہ تر متاثرین کو یہ کہتے بھی سنا گیا کہ فسادات کے بعد بہت سے لوگ آئے اور کئی تنظیموں کے لوگ یہاں تشریف لائے لیکن جس طرح کی مدد کا کام جمعیۃ علماء ہند نے کیا ہے وہ کسی اور نے نہیں کیا۔ سب نے تسلی دی لیکن کام جمعیت علمائے ہند نے کیا۔ گلیوں میں دکانداروں اور ہاکروں کو ایسی مالی امداد کی اشد ضرورت تھی جسے جمعیۃ علماء ہند اور مولانا مدنی نے محسوس کیا۔ یہ کل چالیس لاکھ روپے کی امدادی رقم جمعیۃ علماء ہند (ارشد مدنی ٹرسٹ) کی جانب سے متاثرین میں تقسیم کی گئی۔ ایسے غریب لوگ جن کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ نہیں ہے اور جن کے مکانات کو غیر قانونی قرار دے کر گرا دیا گیا ہے، جمعیۃ علماء ہند انہیں نئے مکانات دے کر کسی اور جگہ آباد کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں