حیدرآباد (دکن فائلز) مرکزی حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کرنے سے متعلق اعلان کے بعد سے سیاسی طور پر ماحول گرما گیا ہے اور مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ خصوصی اجلاس کے دوران حکومت کی جانب سے بعض بل پیش کئے جائیں گے۔ ایسا مانارہا تھا کہ خصوصی اجلاس کے دوران ون نیشن ون الیکشن، یو سی سی، خواتین ریزرویش وغیرہ سے متعلق بل پیش کیا جاسکتا ہے تاہم اب اس طرح کی قیاس کی جارہی ہے کہ مودی حکومت خصوصی اجلاس کے دوران ملک کا نام بدلنے کےلئے بل لائے گی۔
ذرائع کے مطابق مودی حکومت 18 ستمبر سے شروع ہونے خصوصی اجلاس میں آئینی ترمیم کے ذریعہ ملک کا نام انڈیا سے بدل کر بھارت کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔ مودی حکومت کی جانب سے انڈیا کا نام تبدیل کرکے بھارت رکھنے کے لیے پارلیمنٹ میں ایک قرارداد پیش کرنے سے متعلق قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔
اس دوران راشٹرپتی بھون سے جی 20 کے نمائندوں کو جاری سرکاری مکتوب میں پریسیڈنٹ آف انڈیا کی جگہ پریسیڈنٹ آف بھارت تحریر لکھا گیا ہے جس سے ملک کا نام تبدیل کرنے کی قیاس آرائیوں کو تقویت ملتی ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے اس دعوت نامہ کو ٹوئٹ کیا اور لکھا کہ یہ خبر سچ ہوسکتی ہے۔ایک اور ٹویٹ میں جے رام رمیش نے کہا کہ وزیر اعظم مودی تاریخ کو مسخ کرنے اور ہندوستان کو تقسیم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ کچھ روز قبل آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے بھی ملک کا نام تبدیل کرکے بھارت رکھنے کی تجویز پیش کی تھی۔ اس کے علاوہ خود وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی 15 اگست 2022 کو لال قلعہ پر قومی پرچم لہرانے کے بعد اپنی تقریر میں بالواسطہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ انڈیا کا نام بدلنا چاہئے۔


