ہریانہ: پولیس میں شوہر کے خلاف شکایت کرنے آئی خاتون کی اجتماعی عصمت دری کرنے کے بعد دوسرے شخص کو فروخت کرنے کا الزام، سب انسپکٹر و دیگر کے خلاف مقدمہ درج

حیدرآباد (دکن فائلز) ہریانہ میں ایک شرمناک واقعہ کا انکشاف ہوا ہے۔ ایک خاتون نے اپنے شوہر کے خلاف شکایت کرنے پولیس سے ہوئیں تو سب انسپکٹر نے ساتھیوں کے ساتھ اس کی اجتماعی عصمت دری کی۔ اس کے بعد خاتون کو کسی دوسرے شخص کو فروخت کر دیا گیا۔ یہ چونکا دینے والا واقعہ پلول میں سامنے آیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک خاتون نے اپنے شوہر کے خلاف شکایت درج کرانے کے لیے پلول پولیس اسٹیشن پہنچی۔ شادی شدہ خاتون کے ساتھ وہاں موجود سب انسپکٹر کے ساتھیوں نے اجتماعی عصمت دری کی۔ ملزم نے اسے تین دن تک گھر میں قید رکھا اور کئی بار زیادتی کی۔ پولیس میں درج شکایت کے مطابق بعد میں ملزمین نے خاتون کو ایک دوسرے مرد کو فروخت کر دیا، جس نے اس کے ساتھ بھی جنسی زیادتی کی۔

اس معاملہ میں ایک سب انسپکٹر سمیت سات افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔پولیس حکام ے مطابق خاتون نے ایک ملزم کے فون کے ذریعے پولیس کو اطلاع دی جس کے بعد یہ معاملہ سامنے آیا۔ پولیس نے خاتون کو اس کے اہل خانہ کے حوالے کر دیا اور مقدمہ درج کرکے تحقیقات کی جارہی ہے۔

خاتون نے اپنی شکایت میں بتایا کہ وہ 23 جولائی کو حسن پور تھانے آئی تھی، جہاں اس کی ملاقات ملزم سب انسپکٹر شیوا چرن سے ہوئی۔ اس نے اس کی شکایت پر غور کرنے سے انکار کر دیا اور شیوا چرن نے خاتون کو اپنے ساتھی بالی کے ساتھ قریبی کھیت میں جانے پر مجبور کیا جبکہ نرنجن اور بھیما وہاں موجود تھے۔ وہاں جانے کے بعد تینوں نے خاتون عصمت دری کی اور فحش ویڈیو بھی بنایا۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکی دے کر تینوں نے خاتون کو پلول میں شانتی نامی خاتون کے گھر لے گئے۔ انہوں نے اس رات اسے وہیں رکھا اور دوبارہ اس کی عصمت دری کی۔ اس کے بعد اسے بیجندر نامی ایک اور شخص کو فروخت کر دیا گیا، جس نے اپنے بہنوئی گجیندر کے ساتھ مل کر سب انسپکٹر شیوا چرن کی موجودگی میں خاتون کی عصمت دری کی۔

پولیس اس معاملہ میں ہر زاویہ سے تحقیقات کررہی ہے۔ واضح رہے کہ یہ معاملہ دیڑھ ماہ پرانا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں