چندریان 3 کا لانچنگ پیڈ بنانے والوں کو 18 ماہ سے تنخواہ نہیں ملی، ملازمین اڈلی بیچنے پر مجبور، قرضوں سے زندگی دوبھر

حیدرآباد (دکن فائلز) چندریان 3 مشن کی کامیابی ہندوستان کےلئے فخر کی بات ہے۔ وہیں اس مشن کےلئے دنیا بھر میں ہندوستان کی تعریف کی جارہی ہے۔ ہندوستان یہ کارنامہ انجام دینے والا پہلا ملک بن گیا۔ چندریان تین کی کامیابی کا جشن پورے ملک میں منایا گیا جبکہ وزیراعظم نریندر مودی نے اس موقع پر اسرو عملہ کے علاوہ ملک کے عوام کو مبارکباد دی تھی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق جھارکھنڈ کے رانچی میں ہیوی انجینئرنگ کارپوریشن لمیٹڈ کے 2,800 ملازمین کو گزشتہ 18 مہینوں سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں۔ یہاں کے ملازمین انتہائی پریشانی کے عالم میں ہیں۔ کچھ ملازمین نے بتایا کہ ہیوی انجینئرنگ کارپوریشن لمٹیڈ سرکاری کمپنی ہے اور کمپنی کی جانب سے چندریان 3 کےلئے 810 ٹن لانچ پیڈ کے علاوہ فولڈنگ پلیٹ فارم ڈبلیو بی ایس اور سلائیڈنگ ڈور بھی تیار کیا ہے۔ وہیں کمپنی کی جانب سے اسرو کےلئے ایک اور لانچ پیڈ تیار کیا جارہا ہے۔

کمپنی کے ایک ٹیکنیشن دیپک کمار اُپراریہ اب اٹلی بیچنے پر مجبور ہیں۔ ان کی دکان رانچی کے دھروا علاقے میں پرانی اسمبلی کے بالکل سامنے ہے۔ وہ علی صبح سے اڈلی بیچتے ہیں اور بعد میں دفتر جاتے ہیں۔ اسی طرح شام میں بھی وہ اڈلی بیچتے ہیں اور پھر گھر جاری ہیں۔ دوسرے دن بھی اسی طرح کا معمول جاری رہتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے وہ مقروض ہوگئے ہیں اور انہوں نے بیوی کے زیورات بھی گروی رکھ رکھے ہیں۔

ایسا صرف دیپک کی زندگی میں نہیں ہورہا ہے بلکہ دیگر ملازمین کی زندگی بھی مشکلات کا شکار ہے۔ دوسرے ملازمین بھی اسی طرح کے کام کرکے اپنے گھر کو چلارہے ہیں اور بڑی کمسپرسی میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ ایک اور ملازم سبھاش بھی مقروض ہوگیا جبکہ بنک نے اسے ڈیفالٹر بھی قرار دے دیا۔ اس پر 6 لاکھ کا قرض ہے، اسی پریشانی کے چلتے سبھاش کی ماں کا دیہانت ہوگیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں