تاریخی لمحہ: آج پارلیمنٹ کی منتقلی، ایک عہد کا خاتمہ اور نئے دور کا آغاز

حیدرآباد (دکن فائلز) پارلیمنٹ کی نئی عمارت میں آج لوک سبھا کی کارروائی شروع ہوگئی۔ پارلیمنٹ کی نئی عمارت کو بھارت کی پارلیمنٹ قرار دیا گیا ہے، جبکہ پرانی عمارت ’سمویدھان سدن‘ کے نام سے جانی جائے گی۔ اِس سلسلے میں لوک سبھا سکریٹریٹ نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ کَل وزیراعظم نریندرمودی نے سبھی پارٹیوں کے ارکان پارلیمنٹ کی قیادت کی تھی اور پرانی پارلیمنٹ کی عمارت کو الوداع کہا تھا۔ آج سے کارروائی کا نئی عمارت میں آغاز ہوگیا ہے۔ پارلیمنٹ کے اراکین آج پرانے پارلیمنٹ ہاؤس میں گروپ فوٹو کیلئے جمع ہوئے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے اراکین کا ایک مشترکہ فوٹو لیا گیا۔

نائب صدرجمہوریہ اور راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ، وزیراعظم نریندرمودی، لوک سبھا اسپیکر اوم برلا،راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین ہری وَنش اور سابق وزرائے اعظم منموہن سنگھ اور ایچ دیوگوڑا پہلی قطار میں بیٹھے تھے۔ راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما ملکارجن کھڑگے، مرکزی کابینہ کے وزراء، دونوں ایوانوں میں حزب اختلاف کے رہنما، لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے سکریٹری جنرل آگے کی صف میں موجود تھے۔ بھارت کی پارلیمنٹ کے مالا مال ورثے کے بارے میں پارلیمنٹ کے مرکزی ہال میں ایک خصوصی پروگرام کا اہتمام کیا گیا، جس میں بھارت کو دو ہزار 47 تک ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کا عہد کیا گیا۔

نائب صدرجمہوریہ جگدیپ دھنکھڑ نے کہا کہ پارلیمنٹ کی نئی عمارت بھارت کے گوناگوں مالا مال ثقافتی ورثےاور ملک کی شناخت، اتحاد اور قومی فخر کی بھی علامت ہے۔ اِس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ ملک پارلیمنٹ کی نئی عمارت میں ایک نیامستقبل شروع کررہا ہے۔ مودی نے یاد دلایا کہ آج تک لوک سبھا اور راجیہ سبھانے ملکر چار ہزار سے زیادہ قوانین منظور کیے ہیں۔ جناب مودی نے پارلیمنٹ میں منظورکیے گئے کئی اہم قوانین کا ذکر کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں