حیدرآباد (دکن فائلز) نئی پارلیمنٹ میں پہلے روز سب سے پہلے خواتین ریزرویشن بل پیش کیا گیا جسے ناری شکتی وندن ایکٹ کے نام سے جانا جائے گا۔ مرکزی حکومت نے اس بل کو ناری شکتی وندن ایکٹ کا نام دیا ہے۔
وزیر قانون ارجن رام میگھوال نے ناری شکتی وندن ایکٹ لوک سبھا میں پیش کیا۔ اس بل کے قانون بننے کے بعد لوک سبھا اور ملک کی دیگر اسمبلیوں میں ہر تیسری رکن ایک خاتون ہوگی۔ اس بل کے مطابق 33 فیصد نشستیں خواتین کے لیے مختص کی جائیں گی۔ بل کے منظور ہونے کے بعد لوک سبھا میں خواتین کے لیے 181 نشستیں محفوظ ہو جائیں گی۔ اس وقت لوک سبھا میں خواتین ممبران پارلیمنٹ کی تعداد صرف 82 ہے۔
اس بل کے مطابق ایس سی-ایس ٹی خواتین کو کوٹہ دیا جائے گا۔ اس وقت ملک میں مخصوص نشستوں کی تعداد 84 (ایس ٹی) اور 47 (ایس ٹی) ہے۔ اس کے مطابق ایس سی طبقہ کی مخصوص نشستوں میں سے 28 نشستیں خواتین کے لیے مختص ہوں گی جبکہ ایس ٹی برادری کی مخصوص نشستوں میں سے 16 خواتین کے لیے مختص ہوں گی۔
خواتین ریزرویشن بل 15 سال کے لیے ہوگا۔ اس کے بعد حکومت کو خواتین کو ریزرویشن دینے کے لیے دوبارہ بل لانا ہوگا۔


