حیدرآباد (دکن فائلز) ہندوستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار ایک مسلم رکن پارلیمنٹ کےلئے انتہائی نازیبا زبان کا استعمال کیا گیا۔ بی جے پی کے ارکان کی یہ تاریخ و روایت رہی کہ وہ سڑکوں پر مسلمانوں کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرتے رہتے ہیں تاہم اب پارلیمنٹ کے اندر بھی انتہائی گھٹیا زبان کا استعمال کیا جارہا ہے جو سیکولر ملک کی شناخت پر بدنما داغ ہے۔
بی جے پی رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوری کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے جس میں انہیں مبینہ طور پر پارلیمنٹ کے اندر بہوجن سماج پارٹی کے رکن پارلیمان دانش علی کی تذلیل کرتے اور ان کے خلاف انتہائی نازیبا تبصرہ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
I don’t think in the history of parliament such abusive words have been used by an MP against fellow MP : BJP MP Ramesh Bidhuri has brought down parliament’s image to a new low. Yeh kaise ‘sanskar’ bhai? What’s the use of a new building when this is the level of discourse of our… pic.twitter.com/kNhts5Q70Y
— Satya Prakash (@Satya_Prakash08) September 22, 2023
تفصیلات کے مطابق بیدھوری 21 ستمبر کو پارلیمانی کارروائی کے دوران دانش علی کو “مسلم اوگراوادی” (مسلم دہشت گرد)، “بھروا” (دلال) اور “کٹوا” (ختنہ شدہ) کہا۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نے کہاکہ ’’یہ ملا آتنک وادی ہے، باہر پھینکو اس ملے کو‘‘۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب بیدھوری اس طرح کی انتہائی گھناؤنی حرکت کررہے تھے تو بی جے پی کے متعدد سینئر رہنماؤں نے انہیں روکنے کی یا ٹوکنے کی کوشش نہیں کی بلکہ وہ مسکراتے نظر آئے۔ اسی طرح اسپیکر نے بھی ان کے تبصرہ پر اعتراض نہیں کیا۔
اس واقعہ پر وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بیدھوری کے تبصرے کو سرکاری ریکارڈ سے خارج کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے شدت پسند بیدھوری کے خلاف کسی طرح کی کوئی کاروائی کا ذکر نہیں کیا۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کے سریش، جو اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، نے تصدیق کی کہ انہوں نے پہلے ہی حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ بیدھوری کے ریمارکس کو ریکارڈ سے ہٹا دیں۔ اپوزیشن پارٹی کے کئی لیڈروں کو حال ہی میں مبینہ طور پر غیرآئینی تبصرہ کرنے پر پارلیمنٹ سے معطل کر دیا گیا تھا۔ تاہم، بی جے پی کے ایک رکن کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر بیدھوری کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے۔


