حیدرآباد (دکن فائلز) سماجی رابطہ ویب سائٹ ایکس پر ’ہندوتوا واچ‘ نامی میڈیا ہاوس نے اپنے ویریفائڈ اکاونڈ سے کچھ تازہ ویڈیوز شیئر کئے ہیں جس میں کچھ شرپسند ہندوتوا لیڈروں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کی گئیں۔ ممبئی اردو نیوز کے مطابق بجرنگ دل اور وی ایچ پی سمیت دیگر شدت پسند ہندوتوا وادی تنظیموں کے اراکین کھلے عام مسلمانوں کو دھمکی دے رہے ہیں۔
ہندوتوا واچ کا ایک ویڈیو جسے 18 ستمبر کو اندور مدھیہ پردیش کا بتایا جارہا ہے میں سمکشا سنگھ نامی ایک شدت پسند ہندوتوا خاتون شاعرہ نے انتہائی اشتعال انگیز شاعری کے ذریعہ مسلمانوں نے خلاف خوب زہر اگلا اور اذان کے تعلق سے بھی انتہائی نازیبا ریمارکس کئے۔ تقریباً پانچ منٹ کے ویڈیو میں شدت پسند شاعرہ نے مسلمانوں کے خلاف مسلسل اشتعال انگیزی کرتی دیکھی گئی۔
اسی طرح ایک اور ویڈیو میں جسے اتراکھنڈ میں 21 ستمبر کی بتایا جارہا ہے میں ہندو پریشد اور بجرنگ دل سے وابستہ ایک شدت پسند ہندوتوا لیڈر کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ایک بھی دھندہ ہندو کے ہاتھ میں نہیں ہے، سارے ہندو بے روزگار ہوچکے ہیں، یہ دھیرے دھیرے اس پورے ہمالیہ کے اندر ہندو سماج کو ڈراکر، یہاں ی زمین کو، ماں بہنو کو قبضہ کرنے کی کوشش ہے۔ اس نے کہا کہ ہم سب کوئی بھی کام کیوں نہیں کرسکتے ہیں، ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہمارا تعلق ہمارا لین دین کس سے ہے جو ہماری گائے ماتا کو کاٹتے اس سے کیسا تعلق؟ جو ہماری بیٹیوں پر بری نظر رکھے اس سے کس طرح کا اخلاق؟
وہیں ایک اور ویڈیو جو سنگواس راجستھان کی بتائی جارہی ہے اس میں بجرنگ دل کے ایک شدت پسند لیڈر کو یہ کہتے ہوئے سناجاسکتا ہے کہ بھارت دیش مندروں کی بھومی ہے، یہ بھومی کسی مزار کی نہیں ہے، مسجد کی نہیں ہے، اسی لئے جہاں جہاں بجرنگ دل کا کام ہوگا نہ مسجد ہوگی، نہ مرزار ہوگا، نہ چرچ ہوگا۔ اایک اور ویڈیو دہرہ دون اتراکھنڈ کی ہے جس میں ایک گروپ بھگوا جھنڈا لہراتے ہوئے اشتعال انگیز نعرے لگارہا ہے۔ ان نعروں میں مسجد مدرسہ سیل کرو کے نعرے بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ ایک اور ویڈیو راجستھان کی ہے جس میں بجرنگ دل کے اراکین اشتعال انگیزی کرتے نظر آرہے ہیں، ایک لیڈر کہتا ہے کہ رام مندر جھانکی ہے اور متھرا شاہی باقی ہے۔


