ہم جنس شادی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ میں سیم سکس شادیوں کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا

حیدرآباد (دکن فائلز) سپریم کورٹ نے آج ہم جنس پرستوں کی شادی کے حق سے متعلق معاملہ میں اہم فیصلہ سنایا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ’ہم جنس پرستوں کو بھی ہے شادی کا حق لیکن قانون میں تبدیلی کا اختیار پارلیمنٹ کو حاصل ہے۔

سپریم کورٹ نے ملک میں ہم جنس پرستوں کی شادیوں کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ اس فیصلے نے طویل عرصے سے منتظر درخواست گزاروں کی اس امید پر پانی پھیر دیا ہے کہ دنیا بھر میں شادی کی برابری کے حقوق رکھنے والے افراد کی تعداد دوگنی سے زیادہ ہوجائے گی کیونکہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے دلیل دی تھی کہ ہندوستانی ثقافت میں شادی مرد اور عورت کے درمیان ہوتی ہے۔

سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی تاہم حکومت نے اس درخواست کی مخالفت کی تھی۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی قرار دینے سے معذوری ظاہر کی تاہم عدالت نے مرکزی حکومت کو ہم جنس پرست کمیونٹی کے حقوق یقینی بنانے کا مشورہ دیا۔

عدالت عظمیٰ نے ہم جنس پرستوں کی شادیوں کو قانونی حیثیت دینے کے بارے میں آج فیصلہ سنایا، یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس سے دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں اہم تبدیلیاں پیدا ہونے کا امکان ہے۔ وہیں صرف تائیوان اور نیپال ایشیا میں ہم جنس پرستوں کے درمیان شادی کی اجازت دیتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے 2018 کے تاریخی فیصلے کے بعد اس معاملے کو ہندوستان میں ایل جی بی ٹی کیو حقوق کے لئے ایک سنگ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس نے نوآبادیاتی دور میں ہم جنس پرستوں پر پابندی کو ختم کر دیا تھا۔

چیف جسٹس آف انڈیا کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے اپریل اور مئی کے درمیان اس معاملے میں دلائل سنے اور 11 مئی کو اپنا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں