دہلی میں ہجومی تشدد کا شرمناک واقعہ، شرپشندوں کے گروہ نے نام پوچھ کر مسلم نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنایا، پیشاب پینے اور جے ایس آر کا نعرہ لگانے پر مجبور کیاگیا

حیدرآباد (دکن فائلز) ملک کی راجدھانی دہلی میں ہجومی تشدد کا ایک انتہائی شرمناک و بدترین معاملہ سامنے آیا۔ درندہ صفت ہجوم نے مسلم نوجوان محمد سلمان کو پیشاب پلانے کی کوشش اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ہندوتوا شدت پسندوں کے ایک گروہ نے مسلم نوجوان سے اس کا نام دریافت کیا اور جیسے ہی اس نے اپنا نام بتایا، درندوں نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور 90 ہزار روپئے لوٹ لئے جبکہ شدید تشدد کے بعد وہ بیہوش ہوگیا۔

شدت پسندوں کے گروہ نے نہ صرف مسلم نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے پاس سے بڑی رقم لوٹ لی بلکہ درندگی کا انتہا کرتے ہوئے انہوں نے سلمان کو پیشاب پلانے کی کوشش بھی کی۔ یہ شرمناک واقعہ تھانہ کنجھاولہ حدود میں پیش آیا ۔ گزشتہ 19 اکتوبر کو ہندتوا شرپسندوں کے ایک گروہ نے محمد سلمان بری طرح پیٹا۔ درندوں نے مسلم نوجوان پر حملہ کرتے ہوئے اس کا ہاتھ توڑ دیا۔

اطلاعات کے مطابق محمد سلمان کی پریم نگر میں ڈیری ہے وہ کچھ کام سے قریبی گاؤں کرالہ گیا تھا کہ کچھ شدت پسندوں نے اس کا نام پوچھ اور اسے پیٹنا شروع کردیا۔ شدید زخمی حالت میں شرپسندوں نے اسے چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ پولیس نے موقع پر پہنچکر سلمان کو ہسپتال منتقل کیا۔ پولیس نے مسلم نوجوان کی شکایت پر مقدمہ درج کرلیا۔ شکایت میں سلمان نے بتایا کہ ہندوتوا شرپسندوں نے اسے جے ایس آر کا نعرہ لگانے پر بھی مجبور کیا۔ اس معاملہ میں ابھی تک کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ پولیس مصروف تحقیقات ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں