جئے پور ایکسپریس میں تین مسلمانوں کو گولی مارکر قتل کرنے کا معاملہ: ملزم چیتن سنگھ کے خلاف چارج شیٹ داخل

حیدرآباد (دکن فائلز) جے پور ایکسپریس میں اپنے سینئر افسر اور دیگر مسافروں کو مذہب کی بنیاد پر جان سے مارنے والے آر پی ایف کانسٹیبل چیتن سنگھ چودھری کے خلاف جی آر پی نے چارج شیٹ داخل کردی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملزم کا ذہنی توازن بالکل ٹھیک ہے اور مسافروں کو گولی مارتے وقت وہ بخوبی جانتا تھا کہ کیا کررہا ہے۔ گورنمنٹ ریلوے پولیس نے آر پی ایف کے کانسٹبل چیتن سنگھ کے خلاف بوریولی میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ کورٹ میں ایک ہزار 206 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ داخل کی۔

ریلوے پولیس کی جانب سے برطرف آر پی ایف کانسٹیبل چیتن سنگھ کے خلاف جولائی جئے پور ایکسپریس میں فائرنگ کرکے چار لوگوںکو ہلاک کرنے کے الزام میں داخل کی گئی چارج شیٹ واردات کے وقت شدت پسند چیتن سنگھ کی جانب سے کی گئی فرقہ وارانہ تقریر پر کافی حد تک مرکوز ہے۔ پولیس نے شدت پسند چیتن کی تقریر ریکارڈ کرنے والے افراد کے ناموں کا بھی چارج شیٹ میں اظہار کیا ہے۔

واضح رہے کہ چیتن سنگھ نے اس وقت مودی، یوگی اور ٹھاکرے کا نام لیا اور مسلمانوں کے خلاف خوب نفرت انگیز تبصرہ کیا تھا۔

چارج شیٹ کے مطابق چیتن سنگھ ایکسپریس ریل کے بی 5 میں اپنے سینئر، اے ایس آئی تکارام مینا کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا، اس کے بعد اسی کوچ میں ایک اور مسافر قادر بھانپور والا بھی ہلاک کردیا۔ اس کے بعد وہ کوچ بی2 میں گیا جہاں اس نے سید سیف الدین کو گن پوائنٹ پر پینٹری کار میں لے گیا اور اسے گولی مار دی۔ آخر میں اس شدت پسند نے کوچ ایس6 میں اصغر عباس شیخ کو گولی مار دی اور خون میں لتھ پتھ پڑی لاش کے پاس کھڑے ہوکر چیتن سنگھ نے نفرت انگیز تبصرے کئے۔
چارج شیٹ میں ثبوت کے طور پر ٹرین میں لگے سی سی ٹی وی کیمرے کی ریکارڈنگ کو بھی شامل کیا گیا ہے جس میں چیتن کو مختلف بوگیوں میں دوڑتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے جب وہ قتل کیلئے مسافروں کو تلاش کررہا تھا۔ اس کے علاوہ مسافروں کے ذریعہ موبائیل فون پر کی گئی ویڈیو ریکارڈنگ بھی چارج شیٹ کا حصہ ہے جس میں ملزم ایک لاش کے پاس کھڑے ہوکر اشتعال انگیز زبان میں مسلمانوں کو قتل کرنے کے اپنے عمل کو جائز قرار دیتا ہوا نظر آرہا ہے۔

اس کیس میں پولیس نے 90 دن مکمل ہونے سے قبل تفتیش مکمل کرکے چارج شیٹ داخل کردی ہے۔ تفتیشی افسر نے مجسٹریٹ سے یہ بھی درخواست کی کہ اس کیس کو سیشن کورٹ میں منتقل کردیا جائے کیونکہ یہ قتل کا کیس ہے جس پر سماعت کا اختیار سیشن کورٹ کو ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں