اترپردیش کے بلند شہر میں مسلم شخص کی پولیس حراست میں مشتبہ موت، پیٹ پیٹ کر قتل کرنے کا اہلخانہ نے لگایا الزام

حیدرآباد (دکن فائلز) اتر پردیش میں آئے دن پولیس حراست میں موت کے معاملے سامنے آتے رہتے ہیں، اب بلند شہر میں ایک 55 سالہ عمرسیدہ شخص کی پولیس حراست میں مشتبہ موت پر سوال اٹھنے لگے ہیں جبکہ اہلخانہ نے پولیس پر پیٹ پیٹ کر عمرسیدہ شخص کا قتل کرنے کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جلیل پور گاؤں میں ایک مسلم شخص سلیم کو گھر سے پولیس نے حراست میں لیا تھا جس کے بعد اس کی پراسرار حالات میں موت ہوگئی۔ اہلخانہ نے بتایا کہ پولیس اہلکار سلیم کے گھر پہنچے اور دیگر افراد کے ساتھ انہیں بھی ساتھ لے گئے۔ اہلخانہ نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے سلیم کو بے رحمی سے مارا اور علاقہ میں واقع مسجد کے قریب پھینک دیا، جہاں سے سلیم مردہ حالت میں پائے گئے۔

سلیم کے افراد خاندان نے پولیس کے رویہ پر احتجاج کیا اور خاطی اہلکاروں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے پولیس پر ہراساں کرنے کی بھی شکایت کی۔

دوسری طرف پولیس نے سلیم کے اہلخانہ کے الزامات کی تردید کی اور کہا کہ سلیم کو چوری کے مقدمے میں پوچھ گچھ کی گئی، اس دوران اس کی طبیعت بگڑ گئی، اسے ہسپتال لے جایا گیا جہاں اسے مردہ قرار دیا گیا۔ پولیس نے کہا کہ اس معاملہ میں غیرفطری موت کا مقدمہ درج کرلیا گیا اور موت کی وجہ جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کیا جارہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں