مولانا توقیر رضا نے 2024 انتخابات میں مودی کی مشروط حمایت کا اعلان کیا

حیدرآباد (دکن فائلز) اتحاد ملت کونسل کے قومی صدر و معروف عالم دین مولانا توقیر رضا نے بریلی شریف کی درگاہ اعلیٰ حضرت کے احاطہ میں واقع اپنی رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فلسطین کی مدد کرنے کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی کاشکریہ ادا کیا اور انہیں مبارکباد پیش کی۔

ہندوستان سماچار کی رپورٹ کے مطابق اس موقع پر توقیر رضا نے کہا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے لوک سبھا انتخابات 2024 میں بی جے پی کو جتانے کےلئے مدد کا بھی پیشکش کیا۔ اس کےلئے انہوں نے ایک شرط رکھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعظم مودی کو یہ اعلان کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل کے بجائے فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں تو میں انتخابات میں ان کی تائید کروں گا۔

توقیر رضا کا کہنا تھا کہ وہ کل یعنی جمعہ کو اجتماعی دعا کرنے جارہے ہیں جس میں ہندو اور مسلم تمام برادریوں کے لوگ بڑی تعداد میں شرکت کریں گے۔ پہلے یہ جلسہ اسلامیہ گراؤنڈ میں ہونا تھا لیکن انتظامیہ نے اس کی اجازت نہیں دی اور اب یہ جلسہ نومحلہ مسجد میں ہوگا۔ اسلامیہ گراؤنڈ کی اجازت نہ ملنے پر توقیر رضا نے پولیس انتظامیہ کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نہیں چاہتی کہ ہندو اور مسلمان ایک ساتھ بیٹھیں جس کی وجہ سے انتظامیہ نے اسلامیہ گراؤنڈ کے بجائے نومحلامسجد کا انتخاب کیا ہے تاکہ مسجد کا نام سنتے ہی ہندو اجتماع میں نہ آئیں۔ توقیر رضا نے کہا کہ ہندو معاشرے کے بہت سے لوگ ہیں جو امن چاہتے ہیں اور اس کے لیے فلسطین کی حمایت میں اس اجتماعی دعا کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس میں فلسطین کے لیے دعا کی جائے گی۔

انہوں نے کہاکہ اگر بی جے پی کا اسرائیل سے کوئی تعلق نہیں ہے تو اسرائیل کو ایک ملک تسلیم کرنے سے انکار کردے اور اسرائیل سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لے، تو ہم بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں اور آئندہ 2024 کے انتخابات میں بھی کھڑے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے مظالم کے خلاف امریکہ سمیت تمام ممالک میں احتجاج ہو رہا ہے لیکن سعودی عرب نے فلسطین میں مظالم کے خلاف صحیح کردار ادا نہیں کیا۔ دنیا کے مسلمانوں کو سعودی عرب کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ مولانا نے کہا کہ نماز جمعہ کے بعد 2.30 بجے مسجد نومحلا میں ان لوگوں کے لیے دعا کی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں