حیدرآباد(دکن فائلز) سپریم کورٹ نے کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 منسوخ کرنے کے خلاف دائر اپیلوں پر فیصلہ سنا دیا۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے 20 سے زیادہ درخواستوں کی سماعت کے بعد آج فیصلہ سناتے ہوئے مودی حکومت کے اقدام کی حمایت کی اور اسے درست قرار دیا۔
عدالت اعظمیٰ نے دفعہ 370 کی برخواستگی کو درست قراردیا۔ جموں وکشمیر کے موضوع پر صدرجمہوریہ کی جانب سے جاری کئے گئے اعلامیہ میں عدالت نے مداخلت کرنے سے انکار کردیا ہے ۔سپریم کورٹ کی دستوری بنچ کی طرف سے فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے دفعہ 370 کی برخواستگی کے مرکزی اقدام کو درست قراردیا۔ عدالت نے جموں وکشمیر سے لداخ کے علاقہ کو الگ کرتے ہوئے اسے مرکزی زیر انتظام علاقہ میں تبدیل کرنے کو بھی مناسب قراردیا۔
تاہم سپریم کورٹ نے مرکز کو ہدایت دی کہ جموں وکشمیر کے مرکزی زیر انتظام علاقہ میں جتنی جلدی ممکن ہوسکے انتخابات منعقد کرائے جائیں اور اُس کا ریاست کا درجہ بحال کیاجائے۔ عدالت نے 30 ستمبر 2024 سے قبل ریاست جموں وکشمیر میں انتخابات منعقد کرانے کیلئے اقدامات کرنے کی ہدایت دی۔
مرکز نے جموں و کشمیر کو خصوصی موقف فراہم کرنے والے دستور کی دفعہ 370 کو 5 اگست2019 کو منسوخ کردیا تھا اور اِس ریاست کو دو مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کردیا تھا۔ اس فیصلہ کی مخالفت کرتے ہوئے جموں وکشمیر کی مختلف پارٹیوں نے سپریم کورٹ میں درخواست داخل کی تھی جنہیں چیف جسٹس چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی زیر قیادت 5 رکنی دستوری بنچ نے سماعت کیا۔ اِس سال 2 اگست سے اس مقدمہ کی مسلسل سماعت جاری تھی۔ 5 ستمبر کو عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جسے آج چیف جسٹس نے سنادیا۔
سپریم کورٹ نے آرٹیکل 370 پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے، آرٹیکل 370 عارضی تھا۔ چیف جسٹس ڈی وائے چندرچوڑ نے کہا کہ آرٹیکل 370 کا اطلاق عارضی تھا اور جموں و کشمیر کوئی اندرونی خود مختاری کا اختیار نہیں رکھتا۔ دفعہ 370 کی منسوخی کا اقدام اور اس سلسلہ میں صدارتی اختیارات کے استعمال کو سپریم کورٹ نے درست اقدام قراردیا۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ ’ہمارا موقف ہے کہ آرٹیکل 370 ایک عارضی شق تھی۔ ریاست میں جنگی حالات کی وجہ سے آرٹیکل 370 ایک عبوری انتظام تھا‘۔ ریاست جموں و کشمیر کی اندرونی خودمختاری دیگر ریاستوں سے مختلف نہیں ہے۔
سپریم کورٹ نے کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 کی منسوخی کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ 5 ستمبر کو محفوظ کیا تھا۔ سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے آج آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے پر ایک اہم فیصلہ سنایا، جس نے جموں و کشمیر کو 2حصوں میں تقسیم کیا تھا۔


