حیدرآباد (دکن فائلز) پارلیمنٹ پر دہشت گردانہ حملے کے 22 سال مکمل ہونے کے دن لوک سبھا کی ناقص سیکوریٹی کی پول کھل گئی۔ تفصیلات کے مطابق لوک سبھا میں دو نوجوانوں نے افراتفری مچادی۔ ان میں سے ایک شحص نے پبلک گیلری سے لوک سبھا میں چھلانگ لگا دی اور گیس کے کینس کو چھوڑدیا جس کے بعد پارلیمنٹ کے ہال میں دھواں پھیل گیا۔ اطلاعات کے مطابق لوک سبھا میں چھلانگ لگانے والا شخص ان میزوں پر چڑھ گیا جہاں ممبران اسمبلی بیٹھے تھے اور نعرے لگاتے ہوئے کہا کہ کالے قوانین پر پابندی عائد کی جائے۔
اس واقعہ سے گھبرا کر ارکان اور سیکوریٹی اہلکاروں نے اس شخص کو گھیر لیا۔ بالآخر وہ پکڑا گیا۔ بعد ازاں اسے سکیورٹی اہلکاروں نے ایوان سے باہر لے گئے اور اس سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ اس عجیب و غریب واقعہ کے بعد سپیکر نے اجلاس کو فوری طور پر ملتوی کر دیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بی جے پی ایم پی کھگین مرمو زیرو ہاور کے دوران تقریر کررہے تھے۔
دوسری جانب اس واقعہ کے دوران پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر بھی مزید دو افراد نے ہنگامہ آرائی کرنے کی کوشش کی۔ انہیں فوری طور پر سیکورٹی اہلکاروں نے حراست میں لے لیا۔ دہلی پولیس نے بتایا کہ پکڑے گئے افراد میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔
اس واقعہ کے بعد ملک بھر میں پارلیمنٹ کی سیکوریٹی کو لیکر تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ ارکان پارلیمنٹ نے بھی سیکورٹی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا۔
واضح رہے کہ ٹھیک 22 سال قبل اسی دن پارلیمنٹ پر دہشت گرد حملہ ہوا تھا۔ 13 دسمبر 2001 کو دہشت گرد پارلیمنٹ کے احاطے میں داخل ہوئے اور فائرنگ کردی تھی۔ اس حملہ میں 9 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ان میں چھ دہلی پولیس اہلکار، دو پارلیمنٹ سیکورٹی اہلکار اور ایک مالی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ سیکورٹی اہلکاروں نے فوری جوابی کارروائی کرکے حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا تھا۔
#WATCH | An unidentified man jumps from the visitor's gallery of Lok Sabha after which there was a slight commotion and the House was adjourned. pic.twitter.com/Fas1LQyaO4
— ANI (@ANI) December 13, 2023


