مسلم ٹیچر اب ہندو شاگردوں کو چاکلیٹ بھی نہیں دے سکتا؟ جبراً مذہب تبدیلی کے الزام میں استاد کو پولیس نے حراست میں لے لیا

حیدرآباد (دکن فائلز) ملک کے دارالحکومت میں ایک عجیب معاملہ سامنے آیا ہے جس سے اس بات کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ کچھ فرقہ پرستوں کی جانب سے ملک میں مسلمانوں کے خلاف کس قدر نفرت پھیلائی جارہی ہے۔ ایک مسلم ٹیچر پر اپنے شاگرد کو چاکلیٹ دیکر اس کا جبراً مذہب تبدیل کرنے کا مضحکہ خیز الزام عائد کیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق غازی آباد میں کچھ لوگوں نے ایک مسلم ٹیچر پر ہندو طلبا کو کو چاکلیٹس دے کر تبدیلی مذہب کا الزام عائد کیا جبکہ پولیس نے فوری کاروائی کرتے ہوئے استاد کو حراست میں لے لیا۔ سدھارتھ وہار میں گور سدھارتھم سوسائٹی کے لوگوں نے مسلم ٹیچرس پر اس طرح کا بے بنیاد الزام عائد کیا، کیونکہ وہ مسلم ہے اور داڑھی ٹوپی پہنے ہوئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق بچوں کو ٹیوشن پڑھانے والے ٹیچر نے طلبا سے روڈ پر بات چیت کی اور انہیں چاکلیٹ دی جس پر مقامی لوگوں نے ہنگامہ پرپا کردیا۔ دی آبزرور پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ایک خاتون نے الزام عائد کیا کہ مسلم شحص اس کے بیٹے پر دباؤ ڈال رہا تھا کہ وہ اپنا مذہب تبدیل کرلے اور اسے لالچ کے طور پر چاکلیٹ کی پیشکش کی۔

اس واقعہ کے بعد ہندوتوا شدت پسندوں کی جانب سے خوب پروپگنڈہ پھیلایا جارہا اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس واقعہ کا ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا جس میں صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ مسلم ٹیچر کو کچھ لوگ گھیرے ہوئے ہیں اور سے بدتمیی کررہے ہیں۔ اس پر مذہب تبدیلی کا الزام لگارہے ہیں جبکہ ٹیچر یہ کہہ رہا ہے کہ اس نے صرف اپنے شاگرد سے بات کی ہے۔

وہیں اے سی پی کوتوالی نمیش پاٹل نے بتایا کہ بچوں کو چاکلیٹ دیکر مذہب تبدیل کرنے کی کوشش کا لوگوں نے ایک شخص پر الزام عائد کیا۔ شکایت کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں مسلم شخص سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں