حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد کے پرانے شہر میں ایک برقعہ پوش طالبہ کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی جسے لڑکی نے اپنی حاضر دماغی سے ناکام بنادیا۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ پیر کی رات بنڈلہ گوڑہ پولیس اسٹیشن حدود میں یہ واقعہ پیش آیا۔ ایراکنہ کے رہنے والے محمد محسن کی 16 سالہ لڑکی جو دسویں جماعت میں زیرتعلیم ہیں وہ چندرائن گٹہ میں ٹیوشن پڑھنے کےلئے جاتی ہیں۔ ہر روز کی طرح پیر کی رات بھی وہ رات نو بجے ٹیوشن سے گھر واپس آنے کے بعد ایک آٹو میں سوار ہوئیں جس میں پہلے سے دو خواتین بیٹھی تھیں۔
راستہ میں دونوں خواتین آٹو سے اترگئیں، اس دوران آٹو ڈرائیور نے طالبہ سے بات کرنے کے بہانہ لڑکی کے چہرہ پر اسپرے مارا جس کے بعد لڑکی نے ہلکی سے غنودگی محسوس کی اور خطرہ محسوس کرتے ہوئے حاضر دماغی سے کام لیا اور آٹو سے چھلانگ لگادی۔ چہرہ پر نقاب ہونے کی وجہ سے اسپرے کا زیادہ اثر نہیں ہوا۔ آٹو ڈرائیور لڑکی کی ہمت دیکھ کر وہاں سے فرار ہوگیا۔
جیسے تیسے لڑکی اپنے گھر پہنچی اور واقعہ سے والدین کو واقف کروایا۔ لڑکی کے والد فوری طور پر پولیس اسٹیشن میں اس واقعہ کی شکایت کرائی جس کے بعد پولیس نے تحقیقات کا آغاز کردیا۔ پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے آٹو ڈرائیور کا پتہ چلانے کےلئے کوشاں ہے اس کےلئے بڑے پیمانہ پر کاروائی کی جارہی ہے۔ لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ آٹو ڈرائیور کے ہاتھ پر ٹیٹو اور چہرہ پر ماسک تھا۔


