حیدرآباد (دکن فائلز) کیرالہ پولیس نے چھ فلسطینی حامی طلبا کو کوزی کوڈ کے ساحل کے قریب اسٹار بکس اسٹور پر بائیکاٹ کا پوسٹر چسپاں کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ بعد میں کوزی کوڈ ضلع کے فاروق کالج کے طلباء کو دو ضمانتیں پیش کرنے کے بعد پولیس اسٹیشن میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
پولیس نے طلباء کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 448، 153 (فساد بھڑکانے کے ارادے سے اشتعال انگیزی کرنا)، 427 اور 34 (ایکٹ) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس نے ثبوت کے طور پر اس کار کو اپنے قبضہ میں لے لیا ہے جس میں طلباء نے سفر کیا تھا۔
مکتوب میڈیا کے مطابق کوزی کوڈ ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر کے مطابق یہ واقعہ 04 جنوری کی شام پیش آیا تھا۔ طالب علموں پر الزام ہے کہ انہوں نے اسٹاربکس اسٹور کے دروازے پر مبینہ طور پر فلسطین کی حمایت میں پوسٹرز چسپاں کیے تھے۔
طلبا کا کہنا ہے کہ احتجاج کا مقصد غزہ میں ہورہی نسل کشی کے خلاف آواز اٹھانا تھا۔ ہمارا مقصد کوئی اشتعال انگیزی کرنا ہرگز نہیں تھا۔ طلباء نے یہ بھی بتایا کہ شروع میں پوسٹرز لگانے سے اسٹور کے کسی فرد نے ہمیں نہیں روکا۔ انہوں نے پولیس کاروائی کو غیرضروری قرار دیا۔
طلبا نے کہا کہ بائیکاٹ کی کال فسادات کی کال نہیں ہے جبکہ پولیس نے ہم پر فساد بھڑکانے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔ انہوں نے کیرالا حکومت سے فلسطین کے حق میں مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف دائر مقدمات کو خارج کرنے کا مطالبہ کیا۔
مکتوب میڈیا کے مطابق وہیں اسٹاربکس اسٹور کے منیجر دلیپ این جنہوں نے پولیس سے طلبا کے خلاف شکایت کی تھی نے اس معاملہ میں کچھ بھی کہنے سے انکار کردیا۔


