بلقیس بانو کیس میں سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ، گجرات حکومت کی جانب سے 11 مجرمین کو دی گئی معافی کالعدم

حیدرآباد (دکن فائلز) سپریم کورٹ نے بلقیس بانو کیس میں اہم فیصلہ دیا ہے۔ اس مقدمہ میں حکومت گجرات کی جانب سے 11 مجرمین کو دی گئی معافی کو عدالت بالا ن کالعدم قرار دے دیا۔ 2002 گجرات فسادات میں 5 مہینہ کی حاملہ بلقیس بانو اجتماعی عصمت ریزی کا شکار ہوئی تھی۔ اُس وقت اُس کے 7 افراد خاندان کو بھی قتل کردیاگیا تھا۔ سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے 21 جنوری 2008 کو اس معاملہ میں 11 افراد کو قصور وار قراردیتے ہوئےعمر قید کی سزا سنائی تھی۔ گزشتہ سال حکومت گجرات کی جانب سے ان قیدیدوں کو معافی دیئے جانے کے بعد بلقیس بانو سپریم کورٹ سے رجوع ہوئی تھی۔

سپریم کورٹ نے آج ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے 2002 کے گجرات فسادات کے دوران بلقیس بانو کی اجتماعی عصمت دری اور خاندان کے سات افراد کے قتل کے معاملے کے 11 مجرمین کو معافی دینے کے ریاستی حکومت کے فیصلے کو منسوخ کر دیا۔ گجرات فسادات کے دوران بلقیس بانو کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کرنے اور خاندان کو قتل کرنے والے 11 مجرموں کی جلد رہائی کے حکومت کے فیصلہ کو چیلنج کرنے والی درخواست کو سپریم کورٹ نے درست قرار دیتے ہوئے اسے قبول کرلیا اور گجرات حکومت کی جانب سے 11 مجرمین کی رہائی کے احکامات کو کالعدم قرار دیا۔

گجرات فسادات کے دوران ان 11 مجرمین نے بلقیس بانو کی اجتماعی عصمت دری کی تھی جبکہ بلقیس بانو کی عمر 21 سال تھی اور وہ پانچ ماہ کی حاملہ تھی۔ مجرمین نے بلقیس بانو کے افراد خاندان کو بھی ہلاک کردیا تھا۔ تمام 11 مجرموں کو گجرات کی بی جے پی حکومت نے معافی دیتے ہوئے 15 اگست 2022 کو رہا کردیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں