حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد کے مضافاتی علاقہ کوتھور منڈل کے ایک سرکاری اسکول کے طلبا کچھ دنوں سے عجیب و غریب حرکتیں کررہے تھے، جس سے اساتذہ پریشان تھے۔ دن بدن طلبا کی عجیب حرکتیں بڑھ رہی تھی جس کے بعد اسکول عملہ نے طلبا پر نگرانی رکھنا شروع کردیا۔
اسکول عملے نے جب یہ دیکھا کہ اسکول کے قریب ایک پان ڈبہ ہے جہاں پن اور پنسیل بھی ملتے ہیں اکثر طلبا اس ڈبے پر جاکر چاکلیٹ خرید رہے ہیں۔ اساتدہ کو معلوم ہوا کہ پہلے اس ڈبہ پر بہت کم طلبا جایا کرتے تھے لیکن کچھ دنوں سے طلبا کی تعداد بڑھ گئی۔ اساتذہ کو یہ جان کر بھی بڑی حیرانی ہوئی کہ پان کے ڈبہ پر کچھ روز قبل طلبا کو مفت میں چاکلیٹ دیا جارہا تھا لیکن جب طلبا کو اس کی عادت ہوگئی تو یہ چاکلیٹ اب 20 روپئے میں فروخت کیا جارہا ہے۔
اساتدہ کو شک ہونے پر اس پورے معاملہ کی جانکاری پولیس کو دی۔ پولیس نے فوری کاروائی کرتے ہوئے پان کے ڈبہ پر چھاپہ مارا اور تقریباً 9 کیلو چاکلیٹ ضبط کرلیا۔ تحقیقات میں پتہ چلا کہ یہ گانجہ سے بنے چاکلیٹ ہیں۔ پولیس نے تین افراد کو گرفتار کرلیا۔ تینو ملزمین نے بتایا کہ وہ اڑیسہ سے یہ گانجہ چاکلیٹ لاکر یہاں فروخت کررہے تھے۔ انہوں نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ پہلے یہ چاکلیٹ فری میں دیا کرتے تھے تاہم اسکولی طلبا کو اس کی لت لگنے کے بعد اسے بھاری قیمت پر فروخت کررہے تھے۔
طلبا کے سرپرستوں نے پولیس سے ملزمین کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا۔ سوشل میڈیا پر پولیس سے اس طرح کے جرائم میں ملوث دیگر لوگوں کے خلاف بھی کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے تاکہ طلبا کو اس طرح کے نشہ کی لت سے محفوظ رکھا جاسکے اور ان کے مستقبل کو تباہ کرنے کی کوشش کو ناکام بنایا جائے۔


