حیدرآباد (دکن فائلز) معروف عالم دین مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی ندوی کا آج جمعہ کے موقع پر حیدرآباد کی مسجد عالمگیر، گوٹلہ بیگم پیٹ میں اہم خطاب ہوا۔ مولانا نے اپنے ایمان افروز خطاب میں خاص طور پر فلسطین، بیت المقدس اور جذبہ شہادت کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والے سارے مجاہدین حافظ ہیں، جو سائبر ورلڈ اور دفاعی امور میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں تاریخ کا ورق پلٹ رہا ہے اور حالات تبدیلی کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ بہت جلد سرزمین فلسطین دنیا کی تمام دجالی طاقتوں کا قبرستان بنے گی۔ فلسطینی صرف اپنے لیے نہیں پوری دنیا کے مظلوموں کے لیے لڑ رہے ہیں۔ دنیا میں جب کبھی کوئی بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہے تو وہ سرزمین فلسطین سے ہی شروع ہوئی ہے۔ اب ایک نیا ورلڈ آرڈر شروع ہونے والا ہے۔
مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی ندوی نے کہا کہ اللہ کے فیصلے پہلے مسجد اقصٰی پر اترتے ہیں اور پھر وہ دنیا بھر میں نافذ ہوتے ہیں۔ انہوں نے امت کو قرآن مجید کو ترجمہ سے پڑھ کر سمجھنے کی تلقین کی۔ قرآن علم، عقل، معرفت اور رہنمائی کی کتاب ہے جس سے انسان کے اندر یقین و اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔
مولانا نے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہزار سال تک یہودیوں کو کوئی ملک پناہ دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔ ہٹلر نے 6 ملین یہودیوں کا قتل عام کیا لیکن فلسطینیوں نے انہیں انسانی بنیادوں پر فلسطین میں پناہ دی۔ آج یہی یہودی فلسطینیوں کے خلاف ظلم کررہے ہیں، جہاں 23 ہزار سے زائد فلسطینی شہید کیے گئے اور سینکڑوں شدید زخمی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صیہونی بربریت کی انتہا کے باوجود فلسطینی جرات سے مقابلہ کررہے ہیں اور زبان پر حرف شکایت تک نہیں لارہے ہیں۔ فلسطینیوں کی اس جدوجہد اور ایمانی جذبہ کو دیکھ کر دنیا کے کئی ممالک کے متعدد لوگ اسلام قبول کررہے ہیں۔ جس قوم کے نوجوان قومی مقصد کے تحت اپنی زندگی گزارتے ہیں؛ اس قوم کو دنیا کی کوئی طاقت ختم نہیں کرسکتی۔
مولانا نے کہا کہ حق کے غلبہ کا وقت قریب آتا ہے تو اللہ کی طرف سے چھٹائی کا زبردست عمل شروع ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایمان والوں اور منافقین کو الگ الگ کر دیتے ہیں اور یہ عمل شروع ہوچکا ہے۔ ہر شخص اپنی اور اپنی اہل خاندان کی فکر کریں۔ اپنے ایمان اور یقین کی مضبوطی کے لیے اہل علم سے رابطہ کریں اور قرآن مجید کو ہر وقت سمجھنے کی کوشش کرتے رہیں۔ مولانا کے خطاب کو سننے کےلئے حیدرآباد کے علاوہ تلنگانہ کے مختلف علاقوں سے فرزندان توحید کی بڑی تعداد مسجد عالمگیر، گوٹلہ بیگم پیٹ پہنچی تھی۔


