مسلم نوجوانوں کو کھمبے سے باندھ کر پیٹنے کے معاملہ میں سپریم کورٹ سخت، گجرات پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت ریمارکس

حیدرآباد (دکن فائلز) گجرات میں مسلم نوجوانوں کو کھمبے سے باندھ کر ڈنڈے سے مارنے کے معاملہ میں سپریم کورٹ نے سخت ریمارکس کئے ہیں۔ اس معاملہ میں ہائیکورٹ نے پولیس اہلکاروں کو قصوروار قرار دیتے ہوئے 14 دنوں کی جیل کی سزا سنائی تھی تاہم مجرمین نے فیصلہ خلاف سپریم میں عرضی داخل کی تھی۔ مجرم پولیس اہلکاروں کا یہ داؤ الٹا پڑ گیا۔ اس معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے قصوروار پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت ریمارکس کئے تاہم فی الحال سزا پر روک لگادی۔

سپریم کورٹ نے مسلمانوں کو کھمبے سے باندھ کر ڈنڈے برسانے والے پولیس افسران کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ’جاؤ حراست کا لطف اُٹھاؤ‘۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 2022 میں ان پولیس افسران نے گجرات میں کھیڑا کے ایک گاؤں میں مسلمانوں کو سرعام ڈنڈے سے پیٹا تھا۔ سپریم کورٹ نے برہمی ظاہر کرتے ہوئے پولیس افسران سے دریافت کیا کہ ’انہیں ایسا کرنے کا اختیار کس نے دیا تھا‘؟

سماعت کے دوران جسٹس گاوائی نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور پوچھا کہ ’کیا آپ کے پاس یہ اختیار ہے کہ لوگوں کو کھمبوں سے باندھیں اور تشدد کا نشانہ بنائیں؟‘ جسٹس مہتا نے افسران کی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ کس قسم کا ظلم ہے، لوگوں کو کھمبوں سے باندھنا اور سرعام مارنا اور اس کی ویڈیوز بنانا اور اس کے بعد آپ یہ توقع کرتے ہیں کہ یہ عدالت مداخلت کرے۔‘

وہیں جسٹس گاوائی نے سماعت کے دوران سخت لہجے میں کہا قانون سے لاعلمی کچھ زیادہ دفاعی عذر نہیں۔ ہر پولیس والے کو معلوم ہوتا ہے کہ قانون کیا ہے، جیسا کہ قانون کی تعلیم حاصل کرتے ہوئے ہمیں اس بات کا علم تھا۔ جسٹس گاوائی نے اہلکاروں کے خلاف درج شکایات کی تفصیلات طلب کیں، جس پر انہیں بتایا گیا کہ وہ پینڈنگ ہیں۔ اس پر جسٹس گاوائی کا کہنا تھا کہ جب یہ معاملہ اپیل کی شکل میں سامنے آیا ہے تو عدالت اس کو سنے گی۔

واضح رہے کہ 19 اکتوبر 2023 کو گجرات ہائیکورٹ نے چار پولیس افسران کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سزا سنائی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں