حیدرآباد (دکن فائلز) بنارس کورٹ کے گیانواپی پر تازہ فیصلے سے مسلم فریق کو دھچکا لگا ہے۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی رپورٹ فریقین کو فراہم کردی جائے۔ ضلعی عدالت نے فریقین سے اس سلسلے میں حلفیہ بیانِ بھی طلب کیا۔ بیان عدالت میں جمع کرانے کے بعد ہی آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی رپورٹ فریقین کو دی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق وارانسی ڈسٹرکٹ کورٹ نے آج گیانواپی مسجد کمپلیکس کی سروے رپورٹ تمام فریقین کو سونپنے کا حکم دیا۔ وہیں مسلم فریق نے ڈسٹرکٹ جج کے سامنے مطالبہ کیا کہ سروے کی رپورٹ صرف فریقین کے پاس رہے اور اسے عام نہ کیا جائے۔
اس پر ڈسٹرکٹ جج نے کہا کہ تمام فریقین عدالت میں بانڈ جمع کر کے سروے رپورٹ حاصل کریں کہ وہ رپورٹ کو اپنے پاس رکھیں گے اور اسے پبلک نہیں کریں گے۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) نے گیانواپی کمپلیکس کی سروے رپورٹ آج سول جج سینئر ڈویژن پرشانت سنگھ کی عدالت میں داخل کی، جس کے بعد ضلع جج نے گیانواپی کمپلیکس کی سروے رپورٹ سونپ دی۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال اے ایس آئی نے عدالتی حکم کے بعد گیانواپی مسجد کا سروے کیا تھا۔


