بڑی خبر: گیانواپی مسجد سروے کی رپورٹ کو عدالت نے عام کردیا، مسلم فریق کا خدشہ سچ ثابت ہوا

حیدرآباد (دکن فائلز) گیانواپی مسجد معاملہ میں مسلم فریق کی جانب سے جس خدشہ کا اظہار کیا جارہا تھا بالآخر وہی ہوا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آج آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی سروے رپورٹ کو ڈسٹرکٹ جج ڈاکٹر اجے کرشنا وشواش کی عدالت نے منظر عام پر لایا۔ وارانسی کی عدالت نے گیانواپی مسجد سروے کی رپورٹس کو عام کردیا اور رپورٹس کی کاپیاں پانچ فریقین کے حوالے کردی گئیں۔ مسلم فریق نے عدالت سے اس رپورٹ کی میڈیا کوریج پر پابندی عائد کرنے کی بھی التجا کی تاہم عدالت نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔

آج رات 9 بجے جیسے ہی رپورٹ فریق کے وکیل وشنو شنکر جین کو ملی انہوں نے پریس کانفرنس کرکے جیت کا دعویٰ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ سروے رپورٹ میں یہ مانا گیا ہے کہ مبینہ طور پر مندر کو توڑ کر یہاں مندر بنائی گئی۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ رپورٹس میں اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ’یہاں ہندوؤں کے کئی نقش ملے ہیں اور متعدد زبانوں کے نقوش سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں پہلے ایک مندر تھی‘۔

گیانواپی مسجد سروے رپورٹ عام ہونے کے بعد مسلم فریق نے افسوس کا اظہار کیا اور قانونی لڑائی کو آگے تک لیجانے کی بات کہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں