حیدرآباد (دکن فائلز) اتر پردیش میں اجتماعی شادیوں کا بڑا ڈرامہ بے نقاب ہو گیا۔ اطلاعات کے مطابق اجتماعی شادیوں کی تقریب میں دھاندلی کرنے کے الزام میں پولیس نے 2 سرکاری عہدیدار سمیت 15 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس دھاندلی کا اس وقت پتہ چلا جب سوشل میڈیا پر اس اجتماعی شادی کے کئی ویڈیوز سامنے آئے جن میں عام کپڑوں میں ملبوس مردوں کو دولہا کا روپ دھارے دیکھا گیا جنہیں اپنا چہرہ چھپاتے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس اجتماعی شادی میں دلہنوں جو خود کو ہی ہار پہناتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
UP के जिला बलिया में बिना दूल्हों वाली शादी –
मुख्यमंत्री सामूहिक विवाह योजना से 25 जनवरी को 568 जोड़ों की शादी हुई। बड़ी संख्या में दूल्हे के बिना ही दुल्हनों को माला पहना दी गई। कइयों की शादी कई साल पहले हो चुकी थी। कई आपस में भाई-बहन थे। ये सब हुआ सिर्फ कपल्स बनकर फोटो… pic.twitter.com/UNkYDLwj0h
— Sachin Gupta (@SachinGuptaUP) January 31, 2024
تفصیلات کے مطابق اجتماعی شادی کے یہ تقریب 25 جنوری کو منعقد ہوئی تھی۔ تقریب میں تقریباً 568 جوڑوں نے شادی کی تاہم بعد میں سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق کئی افراد کو نقلی دولہا اور دلہن بننے کے لیے پیسے دیے گئے تھے۔ ایک مقامی شخص نے الزام عائد کیا کہ نقلی دلہن اور دلہا بننے کےلئے 500 سے 2 ہزار روپے دیے گئے تھے جبکہ تقریب میں کئی دلہنوں نے خود سے ہار اپنے گلے میں ڈالے۔ ایک 19 سالہ نوجوان راج کمار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اسے بھی دولہا کا روپ دھارنے کے لیے پیسوں کی پیشکش کی گئی تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اجتماعی شادی کی تقریب میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے بی جے پی کی خاتون رکن اسمبلی کو بلایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اس بات کا شبہ تو ضرور ہوا لیکن اب اس کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق حکومت ایک اسکیم کے تحت اجتماعی شادی کے ہر جوڑے کو 51 ہزار روپے فراہم کرتی ہے جس میں سے 35 ہزار روپے لڑکی کو ملتے ہیں جبکہ 10 ہزار روپے شادی کے سامان کی خریداری کے لیے ہوتے ہیں اور 6 ہزار روپے تقریب کے لیے دیے جاتے ہیں۔


