حیدرآباد (دکن فائلز) رام جنم بھومی ٹرسٹ کے خزانچی گووند دیو گری مہاراج نے ایک بار پھر متنازعہ بیان دیاہے۔ انہوں نے آج مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ گیانواپی اور متھرا کی مساجد کو چھوڑ دیں تاکہ تنازعہ کو پرامن طریقہ سے حل کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر گیانواپی اور کرشن جنم بھومی معاملہ کو خوش اسلوبی سے حل کیا جائے تو ہندو دوسرے مساجد کی طرف نہیں دیکھیں گے۔
انہوں نے مہاراشٹرا کے پونے میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے متنازعہ و اشتعال انگیز تقریر کی۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر تین مندر آزاد ہو گئے تو ہم دوسرے مندروں کو دیکھنے کی خواہش نہیں رکھتے، کیونکہ ہمیں ماضی میں نہیں بلکہ مستقبل میں جینا ہے۔ ملک کا مستقبل اچھا ہونا چاہیے اور اگر ہمیں یہ تین مندر (ایودھیا، گیانواپی اور کرشنا) پرامن طریقہ سے مل جاتے ہیں تو ہم دیگر تمام چیزوں کو بھول جائیں گے”-
لوگوں نے ان کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسا دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ دراصل امن کی بات کررہے ہیں جبکہ حقیقت میں وہ مسلمانوں کو دھمکی دے رہے ہیں اور مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کررہے ہیں۔ وہیں سوشل میڈیا پر دیو گری کے بیان پر سخت تبصرے کئے جارہے ہیں۔ صارفین نے حکومت سے انہیں گرفتار کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔


