’جمہوریت کا قتل‘: چندی گڑھ میئر انتخابات پر سپریم کورٹ سخت، ریٹرننگ آفیسر کی سرزنش

حیدرآباد (دکن فائلز) سپریم کورٹ نے چندی گڑھ کے میئر کے انتخابات کرانے والے پولنگ افسر کو پھٹکار لگائی اور کہا کہ یہ ظاہر ہے کہ ریٹرننگ افسر نے بیلٹ پیپرز کو ناکارہ بنایا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندر چوڑ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’کیا الیکشن اسی طرح ہوتا ہے؟ یہ جمہوریت کا مذاق ہے۔ یہ جمہوریت کا قتل ہے۔ ہم گھبرا گئے ہیں۔ اس آدمی کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔ کیا یہ ریٹرننگ آفیسر کا رویہ ہے‘؟

سپریم کورٹ نے انتخابی عمل کا پورا ریکارڈ بشمول بیلٹ پیپرز، ویڈیو گرافی اور دیگر مواد کو پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل کے ذریعہ محفوظ کرنے کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ نے ہدایت دی کہ چندی گڑھ کارپوریشن کی آئندہ اجلاس کو سماعت کی اگلی تاریخ تک ملتوی کر دیا جائے۔

واضح رہے کہ کلدیپ کمار، جو چندی گڑھ کے میئر کا انتخاب ہار گئے تھے، نے ہائی کورٹ کے انتخابی نتائج پر فوری روک لگانے سے انکار کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا جس میں بی جے پی کے امیدوار کو میئر قرار دیا گیا تھا۔ بی جے پی کے منوج سونکر کو 30 جنوری کو چنڈی گڑھ کا میئر منتخب کیا گیا تھا جب انہوں نے میئر کے انتخابات میں کانگریس-آپ امیدوار کلدیپ ٹیٹا کے 12 ووٹوں کے مقابلے میں 16 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ آٹھ ووٹوں کو کالعدم قرار دیا گیا تھا۔

آٹھ ووٹوں کو کالعدم قرار دینے پر کانگریس اور عام آدمی پارٹی نے چندی گڑھ میئر انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کیا تھا۔ اور مرکز کی بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں