(ایجنسیز) ” ذلت آمیز منظر… بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی۔”یہ غزہ کی پٹی میں ایک فلسطینی قیدی کی تصویر پر کیے گئے تبصرے ہیں۔ اس تصویر کو ایک اسرائیلی فوجی نے گذشتہ روز اپنے فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس پر پوسٹ کیا تھا۔ العربیہ کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران بہت سے سوشل میڈیا صارفین نے اس تصویر کو دیکھ کر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس پر تنقید کی ، اسے غیر انسانی اور شرمناک قرار دیا۔
Anyone doubts that these are not soldiers & no more than thugs in uniform?!
Rimal Neighborhood, Gaza
Israeli soldier Yosee Gamzoo publish a picture showing him torturing a Palestinian civilian in West Gaza city. I blurred the gunshot on his leg. He is handcuffed and undressed. pic.twitter.com/zf7jN9hdvi— Said Arikat (@SMArikat) February 5, 2024
عارضی طور پر بند
متعدد صارفین نے اسرائیلی فوجی یوسی گامزو کے اکاؤنٹ کے خلاف شدید مہم چلائی، اور فیس بک پر تنقید کی ۔ یہ پیج بعد میں عوام کے لیے بند کردیا گیا۔
7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی میں جنگ شروع ہونے کے بعد، اور خاص طور پر محصور فلسطینی پٹی پر اسرائیلی زمینی حملے کے آغاز کے بعد، بہت سی ویڈیوز پھیل چکی ہیں جنہیں اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے اشتعال انگیز عمل قرار دیا گیا ہے۔ ان میں سے بعض نے تباہی کے مناظرکو فلمایا، جب کہ دوسروں نے بڑے فخر سے گھروں اور شہریوں کے گھروں پر بمباری کو دکھایا۔
متعدد فوجیوں نے پوسٹ کیا کہ وہ فلسطینیوں کے گھروں میں داخل ہوئے اور بیڈ رومز، یہاں تک کہ الماریوں کے اندر موجود چیزوں کا بھی مذاق اڑاتے ہوئے جائزہ لیا۔
ان “اشتعال انگیز” اقدامات نے سوشل میڈیا اور اسرائیل کے اندر بھی تنقید کو جنم دیا، جس نے فوج کو یہ اعلان کرنے پر مجبور کیا کہ اس نے اپنے فوجیوں کے ان اقدامات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ تاہم، ابھی تک ان تحقیقات کے نتائج کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔


