حیدرآباد (دکن فائلز) اتراکھنڈ میں یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) کے نفاذ کےلئے اسمبلی میں پیش کئے گئے بل پر جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے سخت رد عمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہمیں ایسا کوئی بھی قانون قبول نہیں ہے جو شریعت کے خلاف ہو، کیونکہ مسلمان ہر چیز پر سمجھوتہ کر سکتا ہے لیکن اپنی شریعت سے قطعی سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مذہب کا ماننے والا اپنے مذہبی امور میں کسی طرح کی بیجا مداخلت برداشت نہیں کر سکتا۔
مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اتراکھنڈ اسمبلی میں پیش کئے گئے یو سی سی بل میں درج فہرست قبائل کو رعایت دی گئی ہے لیکن مسلمانوں کے آئینی حقوق کو نظرانداز کردیا گیا۔ مولانا مدنی نے سوال کیا کہ اگر آئین کی ایک دفعہ کے تحت جب درج فہرست قبائل کو رعایت دی جارہی ہے تو پھر مسلمانوں کو اسی آئین کی دفعات کے تحت حقوق کیوں نہیں دیئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے تو پھر مسلمانوں کو اس سے روکا کیوں جارہا ہے۔
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا مدنی نے کہا کہ اگر یہ یکساں سول کوڈ سبھی کے لئے ہے تو پھر شہریوں کے درمیان یہ تفریق کیوں برتی جارہی ہے؟ انہوں نے اعلان کیا کہ ہماری قانونی ٹیم بل کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے اور اس پر بہت جلد عدالت سے رجوع ہونے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح انداز میں کہا کہ ہندوستان جیسے کثیر مذہبی ملک میں جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے صدیوں سے اپنے اپنے مذہبی عقیدوں پر پوری آزادی کے ساتھ عمل کرتے آئے ہیں، وہاں یکساں سول کوڈ آئین میں شہریوں کو دئیے گئے بنیادی حقوق سے ٹکراتا ہے۔


