حیدرآباد (دکن فائلز) مولانا مفتی سلمان ازہری کے خلاف گجرات میں ایک اور مقدمہ درج کیا گیا۔ ہندوتوا انتاپسندوں کی جانب سے ان پر نفرت انگیز تقریر کرنے کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔
گجرات پولیس کے مطابق ممبئی میں مقیم اسلامی مبلغ مفتی سلمان ازہری پر جمعہ کو روز ارولی ضلع کے موڈاسا میں مبینہ نفرت انگیز تقریر معاملہ میں تیسرا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس شیفالی بروال نے کہا کہ مولانا مفتی سلمان ازہری نے 24 دسمبر کو موڈاسا میں اشتعال انگیز تقریر کی۔
واضح رہے کہ گذشتہ 5 فروری کو ممبئی سے گجرات پولیس نے مولانا ازہری کو گرفتار کیا تھا جبکہ ان پر جوناگڑھ 31 جنوری کو مبینہ طور پر نفرت انگیز تقریر کرنے کا الزام تھا۔ قبل ازیں کچھ ہندوتوا تنظیموں کی جانب سے تقریر کے ویڈیو کو وائرل کرتے ہوئے مولانا کو گرفتار کرنے کےلئے دباؤ ڈالا گیا تھا جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرکے مولانا ازہری کو گرفتار کرلیا تھا۔
مولانا ازہری کی گرفتاری کے بعد کچھ میں بھی ایک اور مقدمہ درج کیا گیا تھا تاہم اب گجرات کے موڈاسا میں مولانا کے خلاف تیسرا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
مولانا ازہری کو جوناگڑھ کی عدالت نے ضمانت دے دی تھی تاہم اب وہ کچھ کی پولیس ریمانڈ میں ہیں، اب موڈاسا کا کہنا ہے کہ کچھ ایسٹ پولیس کا ریمانڈ ختم ہونے کے بعد موڈاسا پولیس کی جانب سے مولانا ازہری کو تحویل میں لیا جائے گا۔


