حیدرآباد (دکن فائلز) گجرات کی کچھ ضلع عدالت نے نفرت انگیز تقریر کیس میں مفتی سلمان ازہری کو ضمانت دے دی۔ ضمانت ملنے کے بعد، مولانا ازہری کو راجکوٹ سنٹرل جیل لے جایا گیا جہاں سے ارویلی پولیس ان کے خلاف درج تیسرے ’نفرت انگیز تقریر‘ کے مقدمے میں اپنی تحویل میں لے گی۔
ممبئی کے معروف مبلغ اسلام مولانا ازہری کے خلاف گجرات میں درج دوسری ایف آئی آر جسے ضلع کچھ میں درج کیا گیا تھا میں مولانا کی ضمانت منظور ہوگئی۔ قبل ازیں 7 فروری کو جوناگڑھ کی عدالت نے مولانا کو ضمانت دے دی تھی۔
اطلاعات کے مطابق بھچاؤ میں جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس (جے ایم ایف سی) وائی شرما کی عدالت نے مولانا ازہری کی ضمانت منظور کرلی۔ پولیس نے ضمانت ملنے کے بعد مولانا ازہری کو راجکوٹ سنٹرل جیل منقل کردیا جہاں سے اب ارولی پولیس انہیں اپنی ریمانڈ میں لے گی کیونکہ گجرات کے موڈاسا پولیس اسٹیشن میں مولانا ازہری کے خلاف تیسری ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ موڈاسا پولیس نے مولانا ازہری کے خلاف دو روز قبل ’نفرت انگیز تقریر‘ تقریر معاملہ میں مقدمہ درج کیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ موڈاسا پولیس نے گذشتہ دو ایف آئی آر کے مقابلہ میں مولانا کے خلاف سخت دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
پہلی ایف آئی آر میں ضمانت ملنے کے بعد 8 فروری کو بھچاؤ عدالت نے مولانا ازہری کو اتوار تک پولیس تحویل میں دے دیا تھا۔ آج جب مولانا ازہری کو عدالت میں پیش کیا گیا تو ازہری کے وکیل نے ضمانت کی درخواست دائر کی۔ عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد ان کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔
واضح رہے کہ گذشتہ 5 فروری کو گجرات پولیس نے ممبئی سے مولانا ازہری کو حراست میں لیا تھا، جس کے بعد سے مسلسل ریاست میں ان کے خلاف تین ایف آئی آر درج کی گئیں۔ اب تک مولانا کو دو مقدمات میں ضمانت مل چکی ہے۔


