حیدرآباد (دکن فائلز) مہاراشٹرا کے شہر پونے پر مچھروں کے بڑے لشکر نے حملہ کردیا جس کی وجہ سے شہری خوفزہ ہوگئے۔ گزشتہ کئی دنوں سے پونے پر مچھروں کے حملے کی خبر سوشل میڈیا پر چھائی ہوئی ہے اور یہ سب کی توجہ حاصل کر رکھی ہے جبکہ اس کی کئی ویڈیوز بھی وائرل ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مچھروں کا ہجوم آسمان میں گھوم رہا ہے جو کہ بگولے کی طرح معلوم ہو رہا ہے۔
#WATCH | Pune, Maharashtra: Swarms of mosquitoes form tornadoes in the skies of Keshavnagar and Kharadi Gavthan areas. The menace is caused by the elevated water levels of the Mula Mutha River. pic.twitter.com/ynD0zlyyAR
— ANI (@ANI) February 11, 2024
اس معاملہ پر اب ماہرین کی جانب سے رائے سامنے آ گئی ہے۔ زولوجی کے پروفیسر ڈاکٹر ہیمانت گھاٹی کہتے ہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھر اس لیے نکلے کیونکہ انسانی فضلے اور فیکٹریوں کے فضلے کو ٹھکانے نہیں لگایا گیا۔ دوسری جانب انہوں نے انکشاف کیا کہ آسمان پر جتھوں کی صورت میں نظر آنے والے یہ مچھر نہیں ہیں بلکہ ایک قسم کا Larvae ہے۔ یہ کیڑے لال اس لیے ہوتے ہیں کیونکہ ان کے خون میں Haemoglobin موجود ہوتا ہے۔ یہ کیڑے پانی میں موجود ہوتے ہیں۔
Thanks @PMCPune for giving Valentine gift of Mosquitoes Tornado to Keshav Nagar Pune Residents in return to their timely municipality tax payments.#Justiceforkeshavnagar @ThePuneMirror @CMOMaharashtra @PMOIndia @PuneCivic @eshan_tupe @eshan_tupe @WagholiHSA @ShivSenaUBT_ pic.twitter.com/iQxSb5tj8Y
— Rakesh Nayak (@Rakesh4Nayak) February 8, 2024
ایک اور ماہر نے بتایا کہ یہ واقعہ کوئی غیرمعمولی نوعیت کا نہیں ہے۔ ڈاکٹر گھٹے نے کہا کہ ان کیڑوں کے pupae (لاروا اور بالغ کے درمیان کا مرحلہ) مناسب گرم درجہ حرارت پر بالغوں میں تیار ہوتا ہے اور اسی وجہ سے مچھر نما بالغوں کی ایک بڑی تعداد بھیڑ بن کر ابھرتی ہے۔ “جب بالغوں کی ایک بڑی تعداد پانی کے اوپر اڑتی ہے، تو ان کے غول ہلکی ہوا میں لہروں کی طرح نظر آتے ہیں۔ یہ کاٹتے نہیں ہیں۔ نامیاتی مادہ ان کے لاروا کی خوراک ہے اور ان کی زندگی مختصر ہوتی ہے۔ پانی میں انڈے دینے کے فوراً بعد مرجاتے ہیں۔


