سوریہ نمسکار کے خلاف دائر عرضی مسترد، مسلمان اپنے بچوں کو 15 فروری کو اسکول نہ بھیجیں جمعیۃ علماء کی اپیل

حیدرآباد (دکن فائلز) راجستھان میں حکومت کی جانب سے نامناسب فیصلہ کے خلاف جس میں اسکولوں میں سوریہ نمسکار کو لازمی قرار دیا گیا تھا دائر عرضی کو ہائیکورٹ نے مسترد کردیا۔ یہ عرضی مسلم فورم کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ تفصیلات کے مطابق راجستھان میں حکومت نے 15 فروری کو تمام اسکولوں میں سوریہ نمسکار کو لازمی قرار دیا ہے جس کے بعد اس فیصلہ کے خلاف مسلم تنظیم نے ہائیکورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا تاہم آج عدالت نے مسلم فورم کی عرضی کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ تنظیم رجسٹرڈ نہیں ہے۔ وہیں اس سلسلہ میں کاشف زبیری کی جانب سے دائر عرض پر سماعت کو معزز جج نے 20 فروری تک ملتوی کردیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آج سماعت کے دوران عدالت نے مسلم فورم کے رجسٹرڈ ہونے سے متعلق دریافت کیا تاہم انہیں بتایا گیا کہ تنظیم ابھی رجسٹرڈ نہیں ہے، جس کے بعد عدالت نے عرضی کو مسترد کردیا۔

سوریہ نمسکار کو لازمی قرار دینے مذہبی آزادی کی کھلی خلاف ورزی:
اس تناظر میں صدر جمعیۃ علما ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علما راجستھان کی مجلس عالمہ کا ایک اجلاس گذشتہ روز منعقد ہوا جس میں ایک قرارداد منظور کی گئی۔ قرارداد میں 15 فروری کو اسکولوں میں سوریہ نمسکار کو لازمی قرار دینے کی مذمت کی گئی اور مسلمانوں سے اس دن اپنے بچوں کو اسکول نہ بھیجنے کی اپیل کی گئی۔ قرارداد میں حکومت کے فیصلہ کو مذہبی معاملات میں کھلی مداخلت اور آئین میں دی گئی مذہبی آزادی کے خلاف بتایا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں