حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ میں نظام آباد کے بی جے پی رکن اسمبلی ڈی سوریہ نارائنا نے متنازعہ مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد کا کے علاوہ نظام آباد، عادل آباد اور ورنگل کے ناموں کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا، جسے عوام نے انتہائی فرقہ پرستانہ عمل قرار دیا۔
ڈی سوریہ نارائنا نے 15 فروری کو تلنگانہ اسمبلی میں یہ متنازعہ مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ کانگریس زیرقیادت حکومت ریاست میں گاڑیوں کی نمبر پیٹ پر TS کے بجائے TG تحریر کررہی ہے، اسی طرح حکومت کو حیدرآباد، نظام آباد، عادل آباد اور ورنگل کا نام بھی تبدیل کردینا چاہئے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب بی جے پی کی جانب سے اس طرح کا فرقہ پرستی پر مبنی مطالبہ کیا جارہا ہے۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ عین انتخابات سے قبل بی جے پی کی جانب سے اس طرح کے ہتھکنڈے اختیار کئے جاتے ہیں تاکہ نفرت انگیز و فرقہ پرستی کی سیاست کے ذریعہ ہندوؤں کے جذبات کو بھڑکاتے ہوئے انتخابات میں فائدہ حاصل کیا جاسکے۔ بی جے پی کی جانب سے اکثر شہروں کے اسلامی ناموں کو تبدیل کرنے کا متنازعہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔
واضح رہے کہ 2023 میں اسمبلی انتخابات سے عین قبل بی جے پی کی ریاستی سربراہ اور مرکزی وزیر جی کشن ریڈی نے اعلان کیا تھا کہ ’اگر بی جے پی اقتدار میں آتی ہے تو حیدرآباد کا نام تبدیل کرکے بھاگیہ نگر رکھا جائے گا‘۔ اسی طرح بی جے پی کے دیگر لیڈر بھی اپنی سیاسی دکان چمکانے کےلئے اس طرح کے مطالبے کرتے رہتےہیں۔
عوام نے بی جے پی سے ترقی کے نام پر سیاست کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ عوام کی فلاح و بہبود کے علاوہ صحت و تعلیم کے شعبوں پر خاص توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ عوام نے بی جے پی سے فرقہ وارانہ جذبات کو نہ بھڑکانے کا مطالبہ کیا۔


