حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے تبصرہ کیا ہے کہ عوام کے تئیں پولیس کو اپنا رویہ بدلنے کی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس پر مشتمل بنچ نے اہم ریمارکس میں کہا کہ پولیس، عوام کی خدمت کےلئے ہے، انہیں ڈرانے کےلئے نہیں۔ عدالت نے ایڈیشنل اے جی کو ہدایت کی کہ وہ ڈی جی پی سے پولیس کے رویہ میں تبدیلی لانے اور انہیں ان کے فرائض کی یاددہانی کےلئے بیداری کلاسیں منعقد کریں۔
اس موقع پر بنچ نے دلچسپ تبصرہ کیا کہ ’کوئی شہری تفریح کےلئے پولیس اسٹیشن نہیں آتا‘۔
تفصیلات کے مطابق قبل ازیں ایک خاتون نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرکے چیلنج کیا تھاکہ کریم نگر سیکنڈ ٹاؤن پولیس کی جانب سے ایک شخص کے خلاف شکایت کے باوجود ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔ وہیں حکومت کی جانب سے رجوع ہوتے ہوئے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل محمد عمران نے کہا کہ ایف آئی آر 14 تاریخ کو درج کی گئی۔ انہوں نے ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر کے لئے معذرت کی۔
ہائی کورٹ نے واضح کیا ہے کہ ایف آئی آر درج نہ کرنے پر وضاحت دینا ضروری ہے۔ خاتون نوکری سے نکالے جانے کی شکایت درج کرانے آئی تھی۔ اگرچہ یہ ایک جھوٹی شکایت تھی لیکن اس میں سنگین الزامات عائد کئے گئے تھے، جس کے بعد ایف آئی آر درج کی جانی چاہئے تھی۔ عدالت نے اس سلسلہ میں ایس ایچ او کی جانب سے وضاحت کےلئے سماعت کو 4 مارچ تک کےلئے ملتوی کردیا۔ عدالت نے ایف آئی آر درج نہ کرنے کی وجوہات سے متعلق حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا۔


